امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو ‘خصوصی سرکاری ملازم’ کا درجہ دے دیا ہے۔ یہ عہدہ مسک کو وفاقی حکومت کے لیے کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی انہیں عمومی سرکاری ملازمین کے مالی معاملات اور مفادات کے ٹکراؤ کے قواعد سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
ایلون مسک، جو کہ الیکٹرک کار کمپنی ‘ٹیسلا’ اور ایرو سپیس کمپنی ‘سپیس ایکس’ کے سی ای او ہیں، اب صدر ٹرمپ کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے۔ انہیں خاص طور پر ‘ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی’ کی قیادت سونپی گئی ہے، جو کہ ایک ٹیم ہے جس کا مقصد حکومتی اخراجات میں کمی لانا ہے۔ یہ محکمہ سرکاری حیثیت نہیں رکھتا، مگر اس کے اختیارات میں کانگریس کی مشاورت کے بغیر حکومتی ایجنسیوں کو بند کرنے کی طاقت بھی شامل ہے، جس کے باعث مسک اور ان کی ٹیم کو قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق، مسک کو اس عہدے کے عوض کوئی تنخواہ نہیں ملے گی، اور ان کا کردار عارضی ہے۔ خصوصی سرکاری ملازمین کی تعیناتی کا دورانیہ عموماً 130 دن تک ہوتا ہے، مگر صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کیں۔
مسک کے اس عہدے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مختلف حکومتی منصوبوں کی نگرانی کریں گے، لیکن انہیں سرکاری ملازمین کی طرح مالی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس صورتحال نے شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کی پروفیسر کیتھلین کلارک کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر مسک کے مالی معاملات کو عوام کی نظروں سے چھپانے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔
مسک نے حال ہی میں وفاقی بیوروکریسی میں ملازمین کی تعداد کم کرنے کا وعدہ کیا ہے، مگر ان کی ٹیم کو سرکاری نظاموں تک رسائی دینے کے معاملے میں انہیں سخت تنقید کا سامنا ہے۔ اس دوران، یو ایس ایڈ کے دو عہدیداروں نے تصدیق کی کہ مسک کی ٹیم نے لاکھوں سرکاری ملازمین کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی روک دی ہے۔
ڈیموکریٹک قانون سازوں نے مسک کو خصوصی ملازم کا درجہ دینے کے اقدام پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک غیر منتخب ارب پتی کو وفاقی حکومت میں بہت زیادہ اختیارات دیے جا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے مسک کے اقدامات کی حمایت کی، لیکن یہ بھی واضح کیا کہ ان کے مشیر کے اختیارات کی ایک حد ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایلون مسک کو ان کی منظوری کے بغیر کوئی کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔ یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب ایلون مسک نے یو ایس ایڈ کے پروگرامز کا جائزہ لینے کے بعد اس ادارے کو بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ تمام تبدیلیاں ٹرمپ کی حکومت میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں ایلون مسک کی شمولیت ایک نئی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔
