پاکستان میں جاری ٹرائی سیریز کے سلسلے میں جنوبی افریقہ نے اپنے سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے جس میں صرف گیارہ کھلاڑی شامل ہیں۔ یہ صورتحال کرکٹ کی دنیا میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے، کیونکہ عام طور پر قومی ٹیموں کے سکواڈ میں زیادہ کھلاڑی شامل کیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورت حال کا سامنا کیا جا سکے۔
جنوبی افریقی کوچ راب والٹر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مزید کھلاڑیوں کو شامل کرنے کا امکان موجود ہے، خاص طور پر 6 فروری کو ہونے والے ’ایس اے 20‘ لیگ کے ایلیمینیٹر کے بعد۔ یہ لیگ جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کی اپنی ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے، جو فی الوقت جاری ہے اور اسی کے باعث قومی سکواڈ کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ موجودہ سکواڈ میں شامل چھ کھلاڑی اپنے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچ کا انتظار کر رہے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی افریقہ کی تجربہ کار کھلاڑیوں کی کمی ہے۔ کگیسو ربادا، ڈیوڈ ملر، ایڈن مارکرم، وین ڈر ڈوسن، مارکو یئنسن، رایان ریکلٹن اور ٹرسٹن سٹبس جیسے اہم کھلاڑی اس ٹرائی سیریز میں دستیاب نہیں ہوں گے۔
یہ صورت حال اس وقت مزید پریشان کن ہو گئی جب یہ ٹرائی سیریز دراصل چیمپیئنز ٹرافی کی تیاری کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ اب جبکہ جنوبی افریقہ کے اہم کھلاڑی اس سیریز میں شامل نہیں ہوں گے، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ سکواڈ چیمپیئنز ٹرافی کے لیے مناسب تیاری فراہم کر سکے گا؟
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے سکواڈ میں فہیم اشرف اور خوشدل شاہ کو شامل کر کے ایک اہم قدم اٹھایا ہے، جس پر کئی مبصرین اور صحافی بھی گفتگو کر رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کا سکواڈ مجموعی طور پر متوازن دکھائی دیتا ہے، مگر یہ بات بھی حیران کن ہے کہ پاکستان نے کسی لیفٹ آرم لیگ سپنر کو سکواڈ میں شامل نہیں کیا، حالانکہ جدید ون ڈے کرکٹ میں اس کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا جنوبی افریقہ کا یہ غیر روایتی سکواڈ چیمپیئنز ٹرافی کی تیاری میں کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے، یا یہ صرف ایک عارضی حل ثابت ہوگا۔ اس ٹرائی سیریز کی محدود معنویت کے باوجود، شائقین کرکٹ کو دلچسپی کی تمام تر توقعات ہیں۔
