geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
August 14, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • to Find the Perfect Spot to Watch the August 12 Solar Eclipseصاف افق، بہترین موسم… 12 اگست کے سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے بہترین جگہ کیسے تلاش کریں
    • How to Turn Kids' Hikes Into Joyful Adventuresبچوں کے ساتھ ہائیکنگ کو مہم جوئی میں کیسے بدلیں؟ ماہرین کے آسان اور کارآمد مشورے
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    صحت و تندرستی
    • Sindh High Court Orders Probe into Child HIV Casesسندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی پیلاؤ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا
    • France Flips the Script on Telemarketing: Strict New Rules from August 11فرانس میں ٹیلی مارکیٹنگ کا انقلاب: 11 اگست سے بغیر اجازت فون کالز پر پابندی
    • Tiger Mosquito to Invade Over 70% of France by 2085خطرے کی گھنٹی: 2085 تک فرانس ک 70 فیصد حصہ ٹائیگر مچھر کی لپیٹ میں آ سکتا ہے
    دلچسپ اور عجیب
    • France Flips the Script on Telemarketing: Strict New Rules from August 11فرانس میں ٹیلی مارکیٹنگ کا انقلاب: 11 اگست سے بغیر اجازت فون کالز پر پابندی
    • Tiger Mosquito to Invade Over 70% of France by 2085خطرے کی گھنٹی: 2085 تک فرانس ک 70 فیصد حصہ ٹائیگر مچھر کی لپیٹ میں آ سکتا ہے
    • French Authorities Issue Urgent Squishy Toy Safety Warningاسکویشی کھلونے: ’احتیاط برتیں‘، فرانسیسی حکام نے والدین کو خبردار کر دیا
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Pakistan Names First Lunar Rover Jinnah-1 for 2029 Moon MissionPakistan Names First Lunar Rover Jinnah-1 for 2029 Moon Mission
    • Perseid Meteor Shower Peaks Tonight After Rare Solar Eclipseسمان میں دوہرا عجوبہ: سورج گرہن کے ساتھ پرسید شہابیوں بارش اپنے عروج پر ہوگی
    • Nvidia Partners with Six Financial Giants on $500B AI Fundنوڈیا نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 500 ارب ڈالر سے زائد کے فنڈ کا اعلان کر دیا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

یورپ میں جوہری خطرات کی واپسی

March 21, 2022June 28, 2024 2 1 min read
Nuclear War
Share this:

Nuclear War

یورپ (اصل میڈیا ڈیسک) جوہری ہتھیار سرد جنگ کا ایک نشان قرار دیے جاتے ہیں۔ حالیہ روسی دھمکی سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ ایک مرتبہ پھر اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ اس صورتِ حال میں یورپ کے پاس جوابی کارروائی کا سامان کیا ہے؟

یوکرینی جنگ سے قبل روسی صد ولادیمیر پوٹن نے جوہری ہتھیاروں کو الرٹ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس اعلان سے سارا یورپ ششدر رہ گیا تھا۔ اوائل مارچ میں پوٹن نے جوہری ہتھیاروں کی حامل آبدوزیں اور موبائل میزائل دستوں کو بھی فوجی مشقوں کا حصہ بنا دیا تھا۔ کیا یہ کسی جوہری حملے کی دھمکی تھی؟

روس کے پاس جوہری ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ ان کی تعداد چھ ہزار تین سو بتائی جاتی ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں امریکہ سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھتا ہے اور ان کی تعداد پانچ ہزار آٹھ سو ہے۔ فرانس کے پاس جوہری ہتھیاروں کا حجم تین سو ہے جبکہ برطانیہ دو سو پندرہ ایسے ہتھیار رکھتا ہے۔ ان ہتھیاروں کی حتمی تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ ان ہتھیاروں کی حامل اقوام اس بابت معلومات خفیہ رکھتی ہیں۔

بظاہر یورپ کو امریکہ کی جانب سے جوہری چھتری میسر ہے لیکن اس کے باوجود یورپ کسی جوہری حملے کو روکنے کی سکت نہیں رکھتا۔ ایسا بھی گمان ہے کہ امریکی چھتری اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ اس کی وجہ سے کوئی بھی ملک مغربی دفاعی اتحاد کے رکن ملک پر جوہری حملے کی جرات نہیں کر سکتا اور ایسی صورت میں جارح کو بھی جوابی حملے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

نیٹو کی جوہری قوت جوابی دھمکی یا ڈیٹرینس دینے کے مفروضے پر قائم ہے۔ فرانس اور برطانیہ کم از کم ڈیٹرینس پر انحصار کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس جوہری حملے کا جواب دینے کی صلاحیت تو کم از کم موجود ہے اور بقیہ یورپی ممالک کا انحصار امریکہ پر ہے۔

دوسری جانب امریکا کا ڈیٹرینس جوہری ہتھیاروں پر ہی منحصر ہے اور ان ہتھیاروں کی قوت بھی کم کی جا چکی ہے۔ امریکی عسکری ماہرین محدود جوہری جنگ کے ممکن ہونے کا مفروضہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔

قانونی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو کسی شہری علاقے پر بھاری اثرات کے حامل جوہری ہتھیاروں کا استعمال انٹرنیشنل ہیومینٹیرین قانون کی خلاف ورزی ہے۔
یورپی ڈیٹرینس میں جرمن حصہ

اگر یورپی جوہری ڈیٹرینس میں جرمن حصے کا جائزہ لیا جائے تو یہ صرف جرمن ایئر فورس کے زیرِ استعمال ٹورنیڈو جنگی جہاز ہیں۔ یہ جنگی جہاز جرمن ریاست رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں قائم بیوشل ایئر بیس پر کھڑے ہیں۔

کسی ہنگامی صورت حال میں یہ جنگی ہوائی جہاز امریکی جوہری ہتھیاروں کو لے کر ہدف تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کی مشق ٹورنیڈو جنگی جہاز سالانہ بنیاد پر جعلی بم پھینک کر بھی کرتے ہیں۔

نیدرلینڈز، بیلجیم اور اٹلی بھی نیٹو کے ایسی مشقوں کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ اس وقت ایک سو سے ایک سو پچاس جوہری ہتھیار یورپ میں ہتھیاروں کے مختلف گوداموں میں رکھے ہوئے ہیں تا کہ بوقت ضرورت جرمن طیارے انہیں ہدف کی جانب لے جا سکیں۔

برلن میں قائم جرمن انسٹیٹیوٹ برائے انٹرنیشنل اسٹدیز (SWP) اور سکیورٹی افیئرز کے پولیٹیکل سائنٹسٹ پیٹر روڈولف کا کہنا ہے کہ یہ بم گئے زمانوں کی یادگاریں ہیں اور ان کی فوجی اہمیت آج کے دور میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسے بموں کے استعمال سے قبل دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو ختم کرنا بھی اہم ہے، جو مناسب صلاحیت سے ممکن ہے۔

جرمن چانسلر اولاف شولس کا کہنا ہے کہ جوہری ڈیٹرینس میں جرمنی کے حصہ کو زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا۔ اسی دوران جرمن وزیر دفاع کرسٹینے لامبریشٹ نے کہا ہے کہ جرمن ایئر فورس کے عمر رسیدہ ٹورنیڈو طیاروں کی جگہ ان کا متبادل امریکی ساختہ ایف پینتیس جنگی ہوائی جہازوں کو شامل کیا جائے گا۔ یہ امریکی جہاز بھی جوہری ہتھیار اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جرمنی، اٹلی، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں واقع گوداموں میں رکھے امریکی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دے سکتے ہیں۔ پہلے وہ ان ہتھیاروں کو گودام سے نکالنے کی اجازت دیں گے اور پھر انہیں جنگی طیارے سے ہدف پر گرانے کی رضامندی ظاہر کریں گے۔ اس مناسبت سے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا اصولی فیصلہ بھی درکار ہو گا۔

فرانس کی جانب سے اسی قسم کی کسی کارروائی کا اختیار فرانسیسی صدر کے پاس ہے اور برطانوی وزیر اعظم بھی ایسا ‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌اختیار رکھتے ہیں۔ ان تین ملکوں کے ڈیٹرینس کی وجہ سے دشمن یا مخالف قوت اس کا احساس نہیں کر سکے گی کہ نیٹو کس سمت سے حملہ کرے گا۔

Share this:
Ukraine War
Previous Post یوکرین جنگ: 100 یوکرینی فوجی اور غیر ملکی جنگجو ہلاک کر دیے، روسی رپورٹ
Next Post ہم کسی بھی بے بنیاد الزام کی مخالفت کرتے ہیں: چینی وزیر خارجہ
Chinese Foreign Minister

Related Posts

Boy, 11, Finds 800 Euros in Bush, Gets It Back a Year Later

ڈیجون: 11 سالہ بچے کو جھاڑی سے ملنے والے 800 یورو ایک سال بعد پولیس نے واپس کر دیے

August 13, 2026
Sindh High Court Orders Probe into Child HIV Cases

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی پیلاؤ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا

August 13, 2026
Pakistan Power Tariff May Rise Rs1.34 Per Unit

بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان، نیپرا ک فی یونٹ 1.34 روپے اضافے پر غور

August 13, 2026
Sikh Leader Claims Genocide in India, Hails Pakistan

سکھ رہنما گرپتونت سنگ پنوں کا بھارت پر نسل کشی کا الزام، پاکستان کی ترقی کو سراہا

August 13, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.