تنازعہ کی وجہ
بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اہم اجلاس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے موقف کی حمایت میں خط لکھا ہے۔ بنگلہ دیش نے خطے میں سیاسی عدم استحکام اور سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت میں کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔
آئی سی سی کا موقف
ذرائع کے مطابق، آئی سی سی نے اب تک موجودہ ٹورنامنٹ شیڈول پر قائم رہنے پر اصرار کیا ہے اور بنگلہ دیش کی سری لنکا میں میچز منتقل کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ کونسل نے گزشتہ ہفتے بی سی بی کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اپنا یہی مؤقف دہرایا۔
بنگلہ دیش کی ہٹ دھرمی
بنگلہ دیشی حکومت کی حمایت سے بی سی بی نے واضح کیا ہے کہ وہ “غیر منطقی دباؤ یا جبر” کے تحت بھارت نہیں جائے گا۔ بنگلہ دیش کے یوتھ اینڈ سپورٹس ایڈوائزر آصف نذرول نے کہا، “ہم نے معقول وجوہات کی بنا پر مقام تبدیل کرنے کی منطقی درخواست کی ہے۔”
ٹورنامنٹ سے خارج ہونے کا خطرہ
رپورٹس کے مطابق، بنگلہ دیش کو آج تک بھارت میں کھیلنے پر رضامندی دینے کی ہدایت کی گئی تھی، ورنہ ٹورنامنٹ سے خارج ہونے کا خطرہ ہے۔ تاہم، ڈھاکہ حکومت نے دباؤ میں آنے سے انکار کر دیا ہے۔
پاکستان کا کردار
پی سی بی کا خط آئی سی سی بورڈ کے اراکین میں بھی گردش کر رہا ہے۔ اگرچہ پی سی بی کی مداخلت کے اثرات محدود دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اقدام بنگلہ دیش کے ساتھ اتحاد کو ظاہر کرتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان خود بھی اپنی شرکت کا جائزہ لے سکتا ہے اگر بنگلہ دیش کے خدشات دور نہ ہوئے۔
متبادل ٹیم کا امکان
ذرائع نے بتایا کہ اگر بنگلہ دیش دستبردار ہوا تو اسکاٹ لینڈ، جو کوالیفائی نہ کرنے والی اعلیٰ درجہ بندی والی ٹیم ہے، اس کی جگہ لے سکتی ہے۔ کرکٹ اسکاٹ لینڈ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں آئی سی سی کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، لیکن وہ شرکت کے لیے تیار ہیں۔
بنگلہ دیش کی شیڈولڈ میچز
ٹی20 ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی افتتاحی میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف کولکتہ میں ہونا ہے، جس کے بعد اسی مقام پر دو اور گروپ میچز ہیں۔ گروپ مرحلے کے آخری میچ ممبئی میں ہوں گے۔
تنازعہ کی جڑ
یہ تنازعہ بنگلہ دیشی پیسر مصطفیٰ الرحمٰن کو بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کی ہدایت پر کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی آئی پی ایل اسکواڈ سے ہٹانے کے بعد شروع ہوا۔ اس کے بعد بنگلہ دیشی حکومت نے آئی پی ایل کی براڈکاسٹنگ پر پابندی لگا دی، جس کے بعد بی سی بی نے آئی سی سی کو باضابطہ طور پر مطلع کیا۔
فیصلہ کن اجلاس کے نتائج پر پوری کرکٹ دنییا کی نظر ہے، جس کا فیصلہ ٹورنامنٹ کے شیڈول اور دونوں ممالک کے تعلقات پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

