لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت پولیس نے جنرل ہسپتال کے لیبر روم سے ایک شخص کو جعلی ڈاکٹر کے طور پر گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم خواتین کا معائنہ کر رہا تھا اور خود کو ڈاکٹر ظاہر کر رہا تھا۔
واقعے کی تفصیلات
پولیس کے مطابق ملزم کو جنرل ہسپتال کے لیبر روم میں موجودگی کے دوران حراست میں لیا گیا۔ جب اس کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی تو انکشاف ہوا کہ وہ مستند ڈاکٹر نہیں ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ملزم نے اپنے محلے میں بھی خود کو ڈاکٹر کے طور پر متعارف کرایا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ طویل عرصے سے دھوکہ دہی کا ارتکاب کر رہا تھا۔
ملزم کی شناخت اور قانونی کارروائی
پولیس نے ملزم کی شناخت حسنین کے نام سے کی ہے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ وہ کتنے عرصے سے یہ دھوکہ دہی کر رہا تھا اور اسے ہسپتال میں داخل ہونے میں کس نے مدد کی۔
- ملزم نے خود کو ڈاکٹر ظاہر کر کے خواتین کا معائنہ کیا
- پولیس نے ریکارڈ چیک کرنے پر جعلی ہونے کا انکشاف کیا
- ملزم اپنے محلے میں بھی خود کو ڈاکٹر بتاتا تھا
- کوٹ لکھپت پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی
ہسپتال انتظامیہ کی ذمہ داری پر سوالات
یہ واقعہ ہسپتال کی سیکیورٹی اور انتظامیہ کی ناکامی کو اجاگر کرتا ہے، کیونکہ ایک غیر مستند شخص بغیر کسی رکاوٹ کے لیبر روم جیسے حساس شعبے میں داخل ہو کر خواتین کا معائنہ کرتا رہا۔ تفتیشی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اسے اندر آنے میں کسی نے مدد فراہم کی یا یہ انتظامی غفلت کا نتیجہ ہے۔
