کراچی: پاکستان کے تیز گیند باز نصیف شاہ نے کہا ہے کہ تیز گیند بازوں کو موجودہ صورتحال میں موثر رہنے کے لیے صرف رفتار پر انحصار کرنے کی بجائے نظم و ضبط کو زیادہ اہمیت دینی ہوگی۔ انہوں نے یہ بات اپنے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی جس کا انعقاد نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کیا گیا۔
پاکستان اس وقت ٹرائی نیشن سیریز اور آنے والے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کر رہا ہے، جس کا آغاز 19 فروری سے ہوگا۔ ٹرائی نیشن سیریز میں پاکستان کے ساتھ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ شامل ہیں، جبکہ پاکستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے پہلے میچ میں 78 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
نصیف شاہ نے کہا کہ اگر پاکستان کو فائنل میں پہنچنا ہے تو انہیں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اگر آپ پچھلے میچ کو دیکھیں تو میں نے تقریباً 140 کی رفتار سے گیند بازی کی، جو ایک روزہ کرکٹ میں معمول کی بات ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “دنیا میں صرف چند ہی گیند باز ایسے ہیں جو مسلسل 145-150 کی رفتار سے بولنگ کرتے ہیں۔”
نصیف نے اس بات پر زور دیا کہ “نظم و ضبط اور لائن پر توجہ دینا زیادہ اہم ہے، نہ کہ صرف رفتار پر۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ “آج کل اوسط رفتار تقریباً اسی رینج میں ہوتی ہے، اور ایک گیند باز کے طور پر آپ کی کارکردگی کا طریقہ زیادہ اہم ہے۔”
پاکستان کی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بھاری شکست نے چیمپئنز ٹرافی کے دفاع کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مگر نصیف کا کہنا ہے کہ کھلاڑی اپنی غلطیوں سے واقف ہیں اور ان کی اصلاح کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ایک بین الاقوامی کھلاڑی کے طور پر، آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کب غلطی کی۔ ہم ان چیزوں پر ٹیم میں بات چیت کرتے ہیں اور انہیں درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔”
ٹرائی نیشن سیریز کے بعد، پاکستان اپنی چیمپئنز ٹرافی کی مہم کا آغاز نیوزی لینڈ کے خلاف کرے گا، جس کے بعد وہ 23 فروری کو دبئی میں بھارت کے خلاف اپنے دوسرے گروپ میچ کے لیے روانہ ہوں گے۔ نصیف نے واضح کیا کہ پاکستانی ٹیم میں بھارت کے خلاف میچ پر ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے، اور ان کی توجہ پورے ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم صرف ایک میچ پر توجہ نہیں دے سکتے، ورنہ ہمارا ہدف حاصل نہیں ہوگا۔ یہ ایک دباؤ والا میچ ہے اور جو ٹیم اس دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالے گی، وہی کامیاب ہوگی۔”
