مسلسل بارشوں اور طغیانی کے باعث فرانس کی موسمیاتی ایجنسی میٹیو فرانس نے پیر کے روز ایک اور محکمے کو سیلاب کے حوالے سے سرخ الرٹ کے دائرے میں شامل کر دیا ہے۔ جیرونڈ اور لوٹ-ایت-گارون کے بعد اب مین-ایت-لوار بھی انتہائی خطرے کی گھنٹی بجاتا نظر آ رہا ہے۔
چودہ دیگر علاقے اورنج الرٹ کے تحت
سرخ الرٹ کے علاوہ، چودہ دیگر محکمے سیلاب کے حوالے سے اورنج الرٹ پر ہیں جن میں الے-ایت-ویلین، سارتھ، اندر-ایت-لوار، لوار-اتلانتیک، وینڈی، شارنت-ماریتائم، شارنت، ڈورڈون، کوریز، لینڈز، گیرس، ٹارن-ایت-گارون، ٹارن اور اود شامل ہیں۔
شہریوں کے لیے ہدایات
اورنج الرٹ کی صورت میں رہائشیوں سے انتہائی احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔ انہیں غیر ضروری سفر سے گریز اور دریاؤں کے قریب جانے سے پرہیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جبکہ سرخ الرٹ نافذ ہونے کی صورت میں گاڑی استعمال نہ کرنے، حتیٰ کہ کام پر جانے یا بچوں کو اسکول سے لینے کے لیے بھی نہ نکلنے پر زور دیا گیا ہے۔ رہائشیوں کو اپنے گھر کی بالائی منزل پر پناہ لینے اور انتہائی صورت میں چھت پر جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتہائی غیر معمولی صورتحال، وزیر کا انتباہ
ماحولیاتی تبدیلی کی وزیر مونیک باربوٹ نے اس صورتحال کو انتہائی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ لگاتار 31 واں دن ہے جب ہم طغیانی کے واقعات دیکھ رہے ہیں۔ ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “1959 کے بعد سے زمین میں اس قدر نمی کبھی نہیں تھی۔ یہ ایک فکر انگیز صورتحال ہے۔”
وزیر نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ بدھ سے جمعرات کے درمیان مزید بارشوں کا امکان ہے اور “جمعرات کا دن سب سے مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔” ایک نیا طوفانی نظام منگل کی دوپہر سے ملک کے مغرب سے داخل ہو کر مشرق کی طرف بڑھے گا جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر کثیر بارش ہونے کا امکان ہے۔
نوے سے زائد علاقے الرٹ کے تحت
موجودہ موسلا دھار بارشوں کے پیش نظر ملک کے نوے سے زائد محکمے کسی نہ کسی قسم کے موسمی الرٹ کے تحت ہیں۔ زیادہ تر الرٹس منگل کے روز بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق زمین کی مصنوعی سطحیں (سڑکیں، پارکنگ، شہری علاقے) اور موسمیاتی تبدیلیاں بارشوں کی شدت اور تعدد میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
