ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں ‘نظر انداز’ بے گھری کے بحران پر تشویش
پیرس: فرانس میں ہاؤسنگ کے بحران نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے جہاں 6 لاکھ افراد مجبوراً دوسروں کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن (سابقہ ابی پیئر فاؤنڈیشن) کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ ‘نظر نہ آنے والا’ بحران گذشتہ سات سالوں میں 13 فیصد بڑھ چکا ہے۔
خاندانی رشتوں سے باہر پناہ گزینی میں اضافہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2013 سے 2020 کے درمیان والدین کے علاوہ دوسرے افراد کے گھروں میں رہنے والوں کی تعداد میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطالعات کے ڈائریکٹر مینوئل ڈومرگ کے مطابق اس میں مختلف طبقوں کے افراد شامل ہیں:
- خاندانی ارکان کے ساتھ رہنے والے نوجوان
- شادی ٹوٹنے کے بعد سابقہ ساتھی کے گھر رہنے والے افراد
- بچوں کی سماجی مدد سے نکلنے والے نوجوان
- یوکرین، شام اور غزہ سے تعلق رکھنے والے مہاجرین
- معذوری کا شکار افراد
خاندانی زندگی تباہ، نفسیاتی مسائل میں اضافہ
47 سالہ شیرازاد نامی خاتون نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ دو سال سے اپنے تین بچوں کے ساتھ تین مختلف دوستوں کے گھروں میں رہ رہی ہیں۔ “ہماری خاندانی زندگی ختم ہو چکی ہے، ہم ہر تین ہفتے بعد گھر بدلتے ہیں تاکہ میزبانوں پر بوجھ نہ بنیں۔”
انہوں نے بتایا کہ ان کی 16 سالہ بیٹی کے امتحانات پر اس صورتحال کا برا اثر پڑ رہا ہے، جبکہ 24 سالہ بیٹے کو پیسٹری کی تعلیم اس لیے چھوڑنی پڑی کیونکہ وہ سماجی ہوٹل میں رہ رہے تھے جہاں سے صبح 4 بجے کام پر جانے کے لیے نقل و حمل میسر نہ تھی۔
ذہنی اذیت اور استحصال کے واقعات
35 سالہ محمد نے بتایا کہ وہ گذشتہ چھ سال سے اپنی خالہ کے گھر میں ایک کمرے میں رہ رہے ہیں۔ “جب میں رات کی شفٹ کے بعد صبح گھر واپس آتا ہوں تو بچے جاگ رہے ہوتے ہیں، میں نہ سو سکتا ہوں نہ آرام سے رہ سکتا ہوں۔”
رپورٹ میں شامل اعداد و شمار کے مطابق:
- 28.1 فیصد افراد نے بتایا کہ میزبانوں نے انہیں گزشتہ سال ذہنی اذیت دی
- 27.7 فیصد کو گھر سے نکالنے کی دھمکیاں ملیں
- 22 سالہ ایڈرین نے بتایا کہ انہیں ہر چیز کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جاتا تھا
فاؤنڈیشن کی تجاویز
ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:
- سماجی رہائش گاہوں کی تعمیر میں تیزی لائی جائے
- چھوٹے اور سستی رہائشی یونٹس بنائے جائیں
- طالب علموں کے لیے الگ ہاسٹل تعمیر کیے جائیں
- مہاجرین کے لیے حقوق تک رسائی آسان بنائی جائے
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ ‘نظر نہ آنے والا’ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

