پیرس اور تہران کے درمیان کشیدگی میں ایک نئی صورتحال نے جنم لے لیا ہے۔ ایران کی صدر دفتر کے قریب خبررساں ایجنسی فارس نے پیر کے روز متحدہ عرب امارات میں واقع ایک فوجی اڈے کی ہوائی تصویر بغیر کسی سیاق و سباق یا تبصرے کے جاری کی ہے۔
تصویر میں کیا ہے؟
یہ تصویر العذفورہ (Al Dhafra) فوجی اڈے کی ہے، جو ابوظہبی سے تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا فوجی اڈہ سمجھا جاتا ہے۔ اس اڈے پر متحدہ عرب امارات کے جنگی جہازوں کے علاوہ 2008 سے فرانس کی فضائیہ اور 2002 سے امریکی فضائیہ کی 380 ویں ایئر ایکسپیڈیشنری ونگ (380 AEW) بھی تعینات ہے۔
خاموش دھمکی کا پیغام
تصویر کے ساتھ کسی قسم کی وضاحت نہ ہونے کے باعث یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ فرانس یا امریکہ کو ایک خاموش دھمکی ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے یورپی افواج کو “دہشت گرد گروپ” قرار دینے کا اعلان کیا ہے، جو یورپی یونین کے ایران کے Revolutionary Guards کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کے جواب میں ہے۔
صدر میکخوں کا ردعمل
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخوں نے منگل کو اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، “ہم اس صورتحال پر بہت چوکس ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، “ہماری فوجیں خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے تعینات ہیں اور ہم نے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر حالیہ دنوں میں صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔” صدر میکخوں نے یقین دہانی کرائی کہ فرانسیسی افواج کی سلامتی کے تمام انتظامات مکمل ہیں۔
علاقائی تناؤ کے پس منظر میں
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں جنگی جہاز تعینات کیے ہیں اور ایران پر فوجی مداخلت کی دھمکی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ دونوں ممالک مصر، قطر، عمان اور ترکی کی ثالثی میں جمعہ کو ترکی میں مذاکرات کرنے والے ہیں۔
ایرانی عدالتی حکام نے یورپی یونین کے فیصلے کو “جارحانہ کارروائی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا “جواب ضرور دیا جائے گا” اور انہیں اس “بے وقوفانہ فیصلے کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔” العذفورہ اڈے کی تصویر کا بغیر تبصرے کے جاری کیا جانا اسی تناظر میں ایک اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

