فرانس نے امریکہ کے ساتھ پیدا ہونے والے سفارتی تنازعے کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے اپنے ایک متنازعہ ٹویٹ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس اقدام سے واشنگٹن میں فرانس کے نئے سفیر کی تقرری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
تنازعے کا پس منظر
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب جنیوا میں اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل مشن نے 25 جولائی کو ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پیغام جاری کیا۔ اس پیغام میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کے مینڈیٹ کی تجدید کے خلاف امریکہ کے ووٹ کے بعد امریکی عزم پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ یہ ٹویٹ 29 لاکھ بار دیکھا گیا اور اس نے امریکہ میں شدید ردعمل پیدا کیا۔
سفارتی کشیدگی میں اضافہ
امریکہ نے اس ٹویٹ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے 27 جولائی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے احتجاجاً انخلا کر لیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے فرانس کے اس اقدام کو ‘منافقت’ قرار دیا۔ اس کے بعد امریکہ نے فرانس کے وزیر خارجہ کے دفتر کے ڈائریکٹر اوریلیئن لیشیوالیئر کی بطور سفیر تقرری کے عمل کو روک دیا۔
فرانس کا افسوس کا اظہار
اس سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے فرانس کے اقوام متحدہ مشن نے جمعہ 11 ستمبر کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ‘فرانس اور امریکہ نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک ووٹ کے دوران مختلف مؤقف اختیار کیے تھے۔ یہ اختلاف صرف ایک ووٹ تک محدود تھا اور انسانی حقوق کے دفاع سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔’
بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘کسی ووٹ پر عوامی سطح پر اختلاف رائے امریکہ کے ساتھ قریبی مکالمے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا اور نہ ہی یہ ہمارے تاریخی اتحاد یا امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔’
واشنگٹن کا مثبت ردعمل
فرانس کے اس بیان کو واشنگٹن میں خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘ہم فرانس کے بیان کو نوٹ کر رہے ہیں اور اسے سراہتے ہیں۔ ہم مشترکہ اقدار اور مفادات کے فروغ کے لیے فرانس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔’
سفیر کی تقرری کا عمل
فرانس میں صدر غیر ممالک میں سفیروں کی تقرری کرتے ہیں، لیکن سفیر کو اپنے فرائض انجام دینے کے لیے میزبان ملک سے باضابطہ منظوری (agrément) بھی حاصل کرنی ہوتی ہے۔ عام طور پر امریکہ میں فرانس کے سفیر کی منظوری ایک معمولی رسمی کارروائی سمجھی جاتی ہے، لیکن اس تنازعے کی وجہ سے یہ عمل رک گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق فرانس کا یہ اقدام سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے نہ صرف سفیر کی تقرری کا راستہ صاف ہوگا بلکہ مستقبل میں باہمی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
