حکام کا اعلان: ایک شخص بھی لاپتہ ہو تو عمارت گرائی نہیں جائے گی
کراچی میں گل پلازہ میں لگنے والی بھیانک آگ کے پانچویں دن بھی سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایک بھی شخص لاپتہ ہے، عمارت کو گرایا نہیں جائے گا۔
لاپتہ افراد کی صورتحال
ڈپٹی کمشنر کے مطابق آگ کے واقعے کے بعد 85 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ان میں سے 39 افراد کی لوکیشن کا پتہ چلایا جا چکا ہے کہ وہ شاپنگ سینٹر میں موجود تھے۔ اب تک 11 لاشوں کی شناخت ہو سکی ہے جبکہ 17 لاشیں ابھی نامعلوم ہیں۔
سرچ آپریشن کی تفصیلات
کھوسو نے بتایا کہ عمارت کے کچھ حصے ایسے ہیں جہاں تک رسائی کارکنوں کو ابھی نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ سرچ آپریشن ہاتھوں اور مشینوں دونوں کے ذریعے جاری ہے اور منہدم حصوں سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔
- عمارت کے اندر اب بھی دھواں اور گرمی موجود ہے
- ٹھنڈا کرنے کا عمل جاری ہے
- انسانوں کی جانوں کا معاملہ ہے، اس لیے کوئی جلدی نہیں کی جا رہی
رمپا پلازہ کو سیل کرنے کا فیصلہ
گل پلازہ کے ساتھ واقع رمپا پلازہ کو عارضی طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمارت کا متاثرہ حصہ غیر محفوظ اور خطرناک ہے جو انسانی جانوں اور املاک کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
ایس بی سی اے نے ہدایت کی ہے کہ:
- عمارت کے خطرناک حصے کا استعمال فوری طور پر بند کیا جائے
- غیر محفوظ ڈھانچے کے عناصر کو ہٹایا جائے
- مرمت اور مضبوطی کے کام ماہر انجینئر کی نگرانی میں کیے جائیں
- عمارت کے محفوظ قرار دیے جانے تک کوئی حصہ استعمال نہ کیا جائے
فائر سیفٹی آڈٹ کی رپورٹ
سندھ کے لوکل گورنمنٹ منسٹر ناصر حسین شاہ نے بتایا ہے کہ جنوری 2024 میں کیے گئے فائر سیفٹی آڈٹ کی رپورٹ 19 جنوری 2026 کو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی گئی۔ اس آڈٹ میں 266 عمارتوں کو فائر سیفٹی ضوابط پر پورا نہ اترنے والا پایا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے رپورٹ میں تاخیر پر ناراضی کا اظہار کیا ہے اور تمام عمارتوں میں فائر الارم لگانے کی ہدایت دی ہے۔
واقعے کی مختصر تاریخ
کراچی کے تاریخی مرکز میں واقع گل پلازہ میں ہفتے کی رات آگ لگی جو 24 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک بھڑکتی رہی۔ یہ 1,200 دکانوں پر مشتمل ایک کثیر المنزلہ کمپلیکس ہے جو فٹ بال کے میدان سے بھی بڑے رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ یہ بندرگاہی شہر میں گزشتہ دہائی کی سب سے بڑی آگ تھی۔

