دھوپ تیز ہونے سے پہلے شٹر بند کرنا، درجہ حرارت گرتے ہی کھڑکیاں کھنا، پنکھے کا رخ سیٹ کرنا، اوون جلائے بغیر کھانے کا بندوبست کرنا، پالتو کتے کے لیے تازہ پانی چیک کرنا، اور 35 ڈگری سینٹی گریڈ میں بچوں کو مصروف رکھنا۔ اگر گرمی کی اس شدید لہر کے دوران یہ تمام کام آپ کے گھر میں آپ ہی انجام دے رہی ہیں تو آپ اکیلی نہیں ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام مل کر شدید گرمی سے نمٹنے کی ایک مکمل لاجسٹکس تشکیل دیتے ہیں، اور یہ ذہنی بوجھ ایک بار پھر زیادہ تر خواتین کے کندھوں پر ہے۔
’گرمی کا مطلب صرف درجہ حرارت نہی، یہ ایک پوشیدہ فہرست ہے‘
نانتس کی رہائشی تیس سالہ ریفائیل نے انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ میں لکھا: “شدید گرمی صرف گرم ہونے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک پوشیدہ کرنے کے کاموں کی فہرست ہے جو ہر بڑھتے درجے کے ساتھ بھاری ہوتی جاتی ہے۔” ان کے اس جملے نے چند ہی دنوں میں تقریباً 6000 خواتین کو اپنی طرف متوجہ کیا جنہوں نے اس ’گرمی کی ذہنی تھکن‘ کو محسوس کرنے کی تصدیق کی۔ ریفائیل نے ہف پوسٹ کو بتایا: “مجھے اس قدر ردعمل کی توقع نہیںھی۔ بظاہر زیادہ تر خواتین نے اس پر بات کی۔ یہ یقیناً خوش کن نہیں ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ گرمی سے جڑے کاموں کی صنفی تقسیم میں ایک سنگین خلا موجود ہے۔”
گھر میں اکیلے گرمی کا انتظام سنبھالنے کی مجبوری
یہ کوئی انوکھی بات نہیں، عام دنوں میں بھیڑوں میں ذہنی بوجھ کا بڑا حصہ خواتین ہی اٹھاتی ہیں۔ ادارہ افوب کے پچھلے سال کے پہلے بیرومیٹر کے مطابق 71 فیصد ملازمت پیشہ خواتین اپنی روزمرہ زندگی میں شدید بوجھ محسوس کرتی ہیںبکہ 41 فیصد نے خود کو مکمل طور پر تھکا ہوا اور بے بس تسلیم کیا۔ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ گرمی کی لہریں عدم مساوات کو بڑھا دیتی ہیں۔ ٹھنڈے گھروں والے اور بے گھر افراد، دھوپ میں کام کرنے والے مزدور اور ائیرکنڈیشنڈ دفاتر والے ملازمین، امیر گھرانے اور غریب افراد، سب کے لیے صورتحال یکساں نہیں۔ لہٰذا یہ حیران کن نہیں ک گرمی کی لہر گھں کے اندر بھی عدم مساوات کو جنم دے رہی ہے، خاص طور پر گرمی کے انتظام کے معاملے میں۔>
پیرس میں رہنے والی ایلسا بتاتی ہیں کہ ان کے اپارٹمنٹ کا درجہ حرارت کل 33 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ وہ کہتی ہیں: “میرے لیے ذہنی بوجھ اصل میں درجہ حرارت کم کرنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈنا ہے۔” وہ صبح 5 بجے اٹھ کر رات بھر کھلی کھڑکیوں کو سورج نکلنے سےہلے بندتی ہیں، پنکھا کھڑکی کے سامنے رکھنے، ہوا کا کراس وینٹیلیشن بنانے اور دروازوں پر گیلے کپڑے لٹکانے جیسی تمام ترکیبیں آزمانے کی ذمہ دار بھی وہ خود ہیں۔
برابر کی شراکت داری کا بکھرتا بھرم
دوسری جانب کلیئر (فرضی نام) کو نہ صرف ٹھنڈک کا انتظام کرنا پڑ رہا ہے بلکہ انہیں اکیلے ہی خراب ہوتے فریج سے بھی نمٹنا ہے کیونکہ ان کے ساتھی “دو ہفتوں سے انکار کی حالت میں تھے۔” کلیئر کا کہنا ہے: “حل میں ہی ڈھونڈ رہی ہوں، حالانکہ یہ مسئلہ ہم دونوں کا ہے۔” کلیئر اور ایلسا دونوں اپنے موثر انتظام کی ایک ہی وجہ بتاتی ہیں: اپنے مرد ساتھیوں کے برعکس، وہ گرمی کو شدید برداشت نہیں کر پاتیں۔ سائنسی طور پر ثابت شدہ یہ حقیقت ان جوڑوں میں بھی برابری کی فضا کو متزلزل کر دیتی ہے جہاں عام طور پر توازن پایا جاتا ہے۔ کلیئر بتاتی ہیں: “عام طور پر ہمارے ہاں ذہنی بوجھ اور گھریلو کاموں کی تقسیم برابر کی ہے۔ میرے شوہر زیادہ کھانا پکاتے ہیں، کپڑے دھونے کا انتظام کرتے ہیں… لیکن گرمی کی لہر کے آغاز سے ایسا نہیں ہے۔”
وہ اپنے شوہر کی جانب سے “صورتحال کی سنگینی سے انکار” بھی دیکھتی ہیں، خاص طور پر بچوں کے آرام کے معاملے میں۔ وہ کہتی ہیں: “میں اپنی بیٹی کو ہر روز اسکول بھیجنے پر پریشان رہتی ہوں، جبکہ اسے لگتا ہے وہاں اتنا برا نہیں ہے۔ حالانکہ کلاس رومز میں 35 ڈگری درجہ حرارت ہے۔ چنانچہ میں ہی اسے جلدی لینے جاتی ہوں، سوئمنگ پول لے جاتی ہوں… چونکہ میں فری لانس ہوں اور اس سے کم کماتی ہوں، اس لیے یہ معمول سمجھا جاتا ہے۔”
خواتین، شدید گرمی میں ’کیئر‘ کی ذمہ دار
ایلسا کے مطابق، “گرمی کی ذہنی تھکن نے روزمرہ کے عام بوجھ کی جگہ لے لی ہے، یہ اتنی شدید ہے کہ اس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔” لیکن ایک عنصر اٹل ہے: سب سے زیادہ کمزور افراد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اب بھی خواتین پر ہی عائد ہوتی ہے۔ ریفائیل اسے “ذہنی بوجھ کا بونس ضارب” قرار دیتی ہیں۔ ان پوسٹ پر آنے والے سینکڑوں تبصروں میں خواتین بچوں کی دیکھ بھال کے حل نہ ہونے اور بزرگ، بیمار یا معذور افراد کی ذمہ داری سنبھالنے کی داستانیں بیان کر رہی ہیں۔ ریفائیل کا تجزیہ ہے: “گرمی کی لہر اس ذہنی بوجھ کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے جو عام طور پر بھی موجود ہوتا ہے۔” وہ یاد دلاتی ہیں کہ اکثر خواتین کو ہی بغیر پکائے کھانے تیار کرنے، فریج میں ٹھنڈے مشروبات رکھنے، پانی کے اسپرے خریدنے اور گھر میں آئس کریم بنانے جیسے کام کرنا پڑتے ہیں۔
التو جانوروں کی ذمہ داری بھی بڑی حد تک خواتین پر ہے۔ ریفائیل کہتی ہیں: “میں نے بلیوں کی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کر دیں، حالانکہ اس سے پہلے کبھی زندگی میں یہ سوال ذہن میں نہیں آیا تھا۔” جبکہ میتھیلڈا (فرضی نام) نامی خاتون کے لیے یہ گرمی شاید برداشت کی آخری حد ثابت ہو رہی ہے۔ وہ غصے سے کہتی ہیں: “میں صبح 4 بجے سے جاگ رہی ہوں تاکہ اپنی بلی کو ٹھنڈا کر سکوں جو گرمی سے بہت پریشان ہے، جبکہ میرے شوہر نے کان میں ڈاٹ لگا کر اپنی بہترین نیند لی۔” سیلز میں کام کرنے والی یہ خاتون مزید بتاتی ہیں: “میں سارا دن کھڑی رہتی ہوں، ایک آپریشن سے صحت یاب نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف میں ہوں، جبکہ وہ گھر سے کام کر رہا ہے۔” اگر وہ سارا سال اس ذہنی بوجھ کا شکار نہ ہوتیں تو شاید یہ ایک معمولی سی بات ہوتی۔ ان کا کہنا ہے: “میرا سب سے بڑا دشمن میرے اپنے ہی گھر میں ہے اور سچ کہوں تو میں جانے سے بس دو قدم دور ہوں۔” یوں گرمی کی لہر نہ صرف سماج بلکہ صنفی عدم مساوات کو بھی بے نقاب کر دیتی ہے۔
