فرانس میں گھریلو ڈکیتیوں کی لہر، ہفتے میں دس سے زائد حملے
فرانس میں تشدد اور لوٹ مار کا سیلاب اب کسی پناہ گاہ کو نہیں بخش رہا۔ گھر، جو کبھی محفوظ ترین پناہ گاہ سمجھے جاتے تھے، اب شدید ترین وحشت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ نوجوان اور بے چین ڈاکو اب گھریلوں میں گھس کر شہریوں کو ان کی ذات میں نشانہ بنا رہے ہیں۔
خوفناک اعداد و شمار: 454 مسلح گھریلو ڈکیتیاں
ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، پولیس اور جینڈرمری نے 2025 کے پہلے گیارہ مہینوں میں گھروں پر 454 مسلح ڈکیتیاں ریکارڈ کی ہیں۔ یہ تعداد ہفتے میں دس سے زائد حملوں کے برابر ہے۔ یہ حملے عموماً پندرہ منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جاتے ہیں۔
نئی وحشت: ‘ہوم جیکنگ’ کا خوف
پولیس کے بقول ‘ہوم جیکنگ’ کہلانے والے اس نئے رجحان میں ڈاکو گھر میں گھس کر خاندان کے افراد کو یرغمال بنا لیتے ہیں اور ان پر انتہائی تشدد کرتے ہیں۔ یہ ڈاکو اپنے شکار سے رقم کا پتہ بتانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔
ایک المناک واقعہ: ویزینے کے بزرگ جوڑے پر حملہ
یکم جنوری کی صبح تقریباً تین بجے، یولینز کے ایک پرتعیش علاقے ویزینے میں ایک بزرگ جوڑے کو ان کی نیند سے جگا کر تین ڈاکوؤں نے یرغمال بنا لیا۔ ان پر ہتھوڑوں سے حملہ کیا گیا تاکہ وہ اپنی دولت چھپانے کی جگہ بتائیں۔ یہ واقعہ اس خوفناک رجحان کی ایک المناک مثال ہے۔
تبدیلی کا دورانیہ: گلیوں سے گھروں تک
ماہرین کا کہنا ہے کہ تشدد کی یہ لہر اب تاریک گلیوں، پارکنگ یا عوامی نقل و حمل تک محدود نہیں رہی۔ آخری حدیں ٹوٹ چکی ہیں اور انتہائی درندگی نے اب گھروں کے دروازے توڑ دیے ہیں۔
عوامی بے چینی اور سیکیورٹی کے سوالات
لوور میوزیم کی ڈکیتی اور نوجوان ایلیاس کے قتل جیسے واقعات نے فرانسیسی عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سیکیورٹی اور امیگریشن کے مسائل 2026 میں عوام کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ شہری سیکیورٹی کے حوالے سے سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

