پاکستان کے معروف فیشن ڈیزائنر اور اداکار حسن شہریار یاسین، جنہیں ایچ ایس وائی کے نام سے پہچانا جاتا ہے، نے انکشاف کیا ہے کہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ کے بعد وہ تقریباً ایک سال تک مکمل طور پر دیکھ نہیں سکتے تھے۔
ایک حالیہ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایچ ایس وائی نے اپنے بچپن کی مشکلات اور والدہ کی قربانیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس واقعے کو بھی یاد کیا جس کے نتیجے میں ان کی بینائی متاثر ہوئی۔
رمضان میں افطار کے دوران پیش آیا حادثہ
ایچ ایس وائی کے مطابق یہ حادثہ رمضان کے مہینے میں پیش آیا جب وہ اور ان کا ایک دوست افطار کے لیے کھانا خرید کر واپس لوٹ رہے تھے۔ ان کے دوست گاڑی چلا رہے تھے کہ اسی دوران اذان کی آواز آئی۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے گاڑی کے اندر کھانے کا تھیلا کھولا تو اچانک بھاپ کا بڑا حجم باہر نکلا، جس کی وجہ سے ان کی نظر دھندلی ہو گئی۔ جب ان کا دوست گاڑی کی کھڑکیاں صاف کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو گاڑی سڑک سے اتر کر حادثے کا شکار ہو گئی۔
ایچ ایس وائی نے بتایا کہ حادثے کے دوران ان کا سر ونڈ اسکرین سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی چلی گئی۔
ذہنی دباؤ اور زندگی کا بدلا نظریہ
اس تجربے کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بینائی کے اچانک ضیاع نے انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا اور زندگی کو دیکھنے اور محسوس کرنے کا ان کا انداز بدل کر رہ گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بینائی کھونے کے بعد انہیں اپنے دیگر حواس پر زیادہ انحصار کرنا پڑا۔ انہیں یاد ہے کہ وہ کئی کمروں کے فاصلے سے بھی اپنی والدہ کے رونے کی آواز سن سکتے تھے۔
علاج اور متعدد سرجریوں کے بعد بینائی کی بحالی
ایچ ایس وائی کے مطابق ان کی بینائی تقریباً ایک سال تک متاثر رہی، جس کے بعد انہوں نے علاج کروایا اور متعدد سرجریوں سے گزرے۔ بالآخر انہیں اپنی بینائی واپس مل گئی۔
- ایچ ایس وائی نے رمضان میں پیش آنے والے حادثے کا ذکر کیا
- گاڑی میں کھانے کے تھیلے سے نکلنے والی بھاپ نے نظر دھندلی کی
- حادثے میں سر ونڈ اسکرین سے ٹکرانے پر دونوں آنکھوں کی بینائی گئی
- تقریباً ایک سال تک بینائی متاثر رہی، پھر سرجریوں کے بعد بحال ہوئی
