نئی دہلی: پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں خود کو تنہا محسوس کرتے ہوئے بھارت نے ان ممالک کے خلاف اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے اس تنازع میں اسلام آباد کی مدد کی تھی۔ ذرائع کے مطابق، بھارتی حکومت نے ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو محدود کرنے کی سمت میں قدم بڑھایا ہے۔
ترکی سے متعلق، ممبئی اور احمد آباد کے ہوائی اڈوں نے استنبول میں مقیم ہوائی اڈے کے گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنی Çelebi کے ساتھ معاہدے ختم کر دیے ہیں۔ اسی طرح ایئر انڈیا نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیگو ایئرلائنز کے ترک ہم منصب کے ساتھ موجودہ معاہدے کو منسوخ کرے۔
ان اقدامات کے تناظر میں، دونوں ہوائی اڈوں نے Çelebi کو فوری طور پر اپنے گراؤنڈ ہینڈلنگ کی ذمہ داریاں سونپنے کا حکم دیا ہے تاکہ ہوائی اڈوں پر بلا تعطل کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دہلی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے نے بھی اسی نوعیت کا اعلان کیا ہے جس سے قومی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر ترکی کی کمپنی کے ساتھ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
سیاسی محاذ پر، بی جے پی کے ایک وزیر نے پاکستان کے خلاف فوجی آپریشن کی نمائندگی کرنے والی مسلم خاتون افسر کو دہشت گردوں کی بہن قرار دیا۔ اس پر مدھیہ پردیش کی عدالت نے وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
مدھیہ پردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر جگدیش دیودا نے بھی اپنے بیان میں فوج کو مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے قدموں تلے جھکنے کا الزام لگایا، جس پر کانگریس سمیت اپوزیشن نے سخت ردعمل دیا اور معافی کا مطالبہ کیا۔
بھارت کے داخلی بحران کے دوران چین نے پاکستان کو مضبوط سفارتی حمایت فراہم کی، جبکہ اسرائیل کے علاوہ کوئی بھی ملک بھارت کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔ یہ صورتحال بھارت کی سفارتی ناکامی کی عکاسی کرتی ہے، جو بین الاقوامی سطح پر اس کی تنہائی کو ظاہر کرتی ہے۔
