بھارت اپنے فضائی بیڑے کو مضبوط بنانے کے لیے 114 نئے لڑاکا طیارے خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جسے “ایم آر ایف اے” (ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ) پروگرام کہا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں کئی ممالک کی کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں، جیسے امریکہ کی بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن، سویڈن کی ساب، روس کی سوخوئی، اور فرانس کی ڈاسو ایوی ایشن۔
ابھی تک بھارت کی حکومت نے کسی کمپنی کا انتخاب نہیں کیا، مگر اطلاعات کے مطابق فرانس کا رافیل F4 طیارہ سب سے مضبوط امیدوار ہے۔ یہ وہی کمپنی ہے جس نے پہلے بھی بھارت کو رافیل طیارے فراہم کیے تھے۔
حال ہی میں بھارتی رافیل طیارے “آپریشن سندور” کے دوران گر گے تھے، مگر اس کے باوجود بھارت کی حکومت نے فرانس کے ساتھ بات چیت جاری رکھی ہے، اور رافیل F4 طیارے پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔
رافیل طیارے کی خریداری میں اصل رکاوٹ ایک تکنیکی معاملہ ہے جسے “سورس کوڈ” کہا جاتا ہے۔ سورس کوڈ وہ خاص کمپیوٹر سسٹم ہوتا ہے جس سے طیارے میں ہتھیار اور سافٹ ویئر شامل کیے جا سکتے ہیں۔
بھارت چاہتا ہے کہ وہ رافیل طیاروں میں اپنے بنائے ہوئے میزائل اور بم، جیسے: آسٹرہ میزائل (فضا سے فضا میں مار کرنے والا)، رُدرم میزائل (ریڈار تباہ کرنے والا)، سدھارشَن بم (لیزر گائیڈڈ بم) شامل کر سکے۔ اس کے لیے بھارت کو سورس کوڈ تک رسائی چاہیے۔
لیکن فرانس کی کمپنیاں، جیسے ڈاسو، سفران، تھالیس، اور ایم بی ڈی اے، یہ کوڈ بھارت کو دینے سے ہچکچا رہی ہیں، کیونکہ وہ نہیں چاہتیں کہ بھارت کا دفاعی نظام ان کی ٹیکنالوجی پر حاوی ہو جائے۔ اب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں تاکہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔
اس پروگرام میں رافیل کے علاوہ یہ طیارے بھی مقابلے میں ہیں: بوئنگ F-15EX (امریکہ), لاک ہیڈ مارٹن F-21A وائپر (امریکہ), ساب گرپین JAS 39E/F (سویڈن), سوخوئی Su-57E (روس), مگر اب بات چیت زیادہ تر بھارت اور فرانس کے درمیان ہی ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ معاہدہ حکومت سے حکومت (G2G) سطح پر ہو گا، یعنی بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون خود اس پر دستخط کریں گے۔
اگر رافیل F4 منتخب ہو جاتا ہے تو: پہلے 24 طیارے فرانس میں بنیں گے, باقی 90 طیارے بھارت میں “میک ان انڈیا” پروگرام کے تحت تیار ہوں گے.
