سوشل میڈیا پر غم و غصہ، پولیس نے ملزمانہ کارروائی کا اعلان کر دیا
انڈونیشیا کی پولیس نے اتوار کے روز دو خواتین کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ملک میں ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ایک خاتون کو قرآن مجید پر پاؤں رکھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
کیا ہوا واقعہ؟
واقعہ بدھ کے روز پیش آیا جب بانٹن صوبے کے ضلع لیباک میں ایک سیلون مالکن نے ایک مہمان پر اپنا سامان چرانے کا الزام لگایا۔ جب خاتون نے الزام سے انکار کیا تو سیلون مالکن نے اصرار کیا کہ وہ قرآن مجید پر پاؤں رکھ کر حلف اٹھائے۔ اس دوران ویڈیو بھی بنائی گئی۔
پولیس کا مؤقف
بانٹن پولیس کے ترجمان مارولی اہیلیس ہوٹاپیا نے اے ایف پی کو بتایا، “قرآن پر پاؤں رکھنے والی شخصیت اور حلف اٹھوانے والی دونوں نے اپنے اعتراف کر لیے ہیں۔ پولیس نے انہیں طلب کیا تھا اور اب انہیں ملزم قرار دے دیا گیا ہے۔”
قانونی صورت حال
انڈونیشیا کے توہین مذہب کے قانون کے تحت، ملک کے چھ سرکاری مذاہب میں سے کسی کی توہین کرنے یا کسی کو ان مذاہب میں سے کسی پر عمل کرنے سے روکنے کی کوشش کرنے والے شخص کو پانچ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
- ملزمہ خواتین کی عمریں اور نام فاش نہیں کیے گئے۔
- یہ واقعہ دارالحکومت جکارتہ سے تقریباً 140 کلومیٹر دور پیش آیا۔
- ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس سے عوامی غم و غصہ پیدا ہوا۔
حقوق انسانی گروپوں کی تشویش
حقوق انسانی کے گروپوں کا طویل عرصے سے موقف رہا ہے کہ توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال کرتے ہوئے مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ماضی کے واقعات
جکارتہ کے سابق گورنر بسیوک تیجاہاجا پورناما، جنہیں عوامی طور پر آہوک کے نام سے جانا جاتا ہے، کو 2017 میں توہین مذہب کے الزام میں تقریباً دو سال قید کی سزا ہوئی تھی۔ 2024 میں، ایک اسٹینڈ اپ کامیڈین کو توہین آمیز joke سنانے پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
مذہبی آبادی
انڈونیشیا دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے جہاں 24 کروڑ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔
