طالبہ کے چھاتی میں گولی لگنے سے موت، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تصدیق
مرید پورخاص میں ایک نجی میڈیکل کالج کی طالبہ کی ہراسانی اور خودکشی کے مقدمے میں فارمیسی کا لیکچرار گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزم حکومتی پرائمری اسکول میں بطور استاد بھی تعینات پایا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تیسرے سال کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے تین روز قبل سیٹلائٹ ٹاؤن میں اپنے گھر میں خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔
پرنسپل اور اہلیہ کو 13 روزہ پیشگی ضمانت
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق گولی بائیں چھاتی سے لگ کر دل کو نقصان پہنچاتی ہوئی جسم سے گزر گئی تھی۔ متوفہ کی بہن نے پولیس کو بتایا کہ طالبہ کالج کے بعض پروفیسروں اور ساتھی طلبہ کی جانب سے ہراسانی کی شکایت کرتی رہی تھی۔ بعد ازاں طالبہ کے چچا کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی جس میں کالج پرنسپل، ان کی اہلیہ (جو خود بھی پروفیسر ہیں)، فارمیسی لیکچرار اور دو طلبہ کو جنسی ہراسانی اور خودکشی کے لیے اکساؤنے کے الزامات میں نامزد کیا گیا۔ پولیس کے مطابق پرنسپل اور ان کی اہلیہ نے عدالت سے 13 روزہ پیشگی ضمانت حاصل کر لی ہے جبکہ دو دیگر ملزمان فرار ہیں۔
احتجاجی مظاہرے، گرفتاری کے بعد دھرنا ختم
- واقعے کے بعد متوفہ کے گھرانے اور مقامی افراد نے ٹول پلازہ پر دھرنا دے کر تمام نامزد ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
- احتجاج 12 گھنٹے سے زائد جاری رہا جس کے دوران گاڑیوں کی طویل قطاریں بن گئیں۔
- سندھیانی تحریک کی делеگیشن اور سول سوسائٹی کے اراکین کے احتجاج میں شامل ہونے کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔
استاد معطل، تحقیقاتی کمیٹیاں قائم
گرفتار فارمیسی لیکچرار ابید لغاری کو تندو اللہ یار ضلع کے پرائمری اسکول میں استاد کے طور پر تعینات پایا گیا۔ انہیں عدالت میں پیش کر کے چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے ملزم استاد کو معطل کرتے ہوئے شو کاز نوٹس جاری کیا ہے۔
ایس ایس پی کی نگرانی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جبکہ وزیر برائے خواتین ترقی شاہینہ شیر علی نے بھی علیحدہ کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے واقعے کی نوٹس لیتے ہوئے کالج کے ریکارڈز اور سندھ حکومت سے انکوائری رپورٹ طلب کی ہے۔
