قاہرہ اجلاس: پاکستان اور مسلم ممالک کا مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے کی حمایت کا اعادہ
قاہرہ میں پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے چوتھے مشاورتی اجلاس میں اتوار کے روز مسئلہ فلسطین کو مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کا مرکزی ستون قرار دیتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ 4 جون 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایسی ریاست جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے لیے ناگزیر بنیاد ہے۔
اجلاس میں مقبوضہ غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کی بگڑتی ہوئی انسانی اور سیاسی صورتحال پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزراء نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق بشمول حقِ خودارادیت کے لیے اپنی یکجہتی کا اظہار کیا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس موقف کو دہرایا۔
غزہ میں اسرائیلی فائرنگ سے 9 شہید، بچہ اور الجزیرہ کا صحافی بھی شامل
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 9 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں ایک بچہ اور الجزیرہ کے ایک صحافی بھی شامل ہیں۔ طبی حکام کے مطابق غزہ شہر کے صبرہ محلے میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے میں دو خواتین اور ایک بچے سمیت 4 افراد شہید ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے ایک ‘عسکریت پسند’ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
بیت لاہیہ میں اسرائیلی فورسز کی گولی سے ایک خاتون جاں بحق ہوئیں جبکہ خان یونس میں فضائی حملے میں ایک شخص شہید اور 8 زخمی ہوئے۔ مرکزی غزہ کے بریج پناہ گزین کیمپ میں ایک اور حملے میں الجزیرہ کے کیمرہ مین احمد وشاح سمیت تین افراد شہید ہو گئے۔ الجزیرہ نے اسے ‘گھناؤنا جرم’ قرار دیا ہے، واضح رہے کہ احمد کے بھائی محمد وشاح بھی دو ماہ قبل اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے۔
اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی مندوب اور بچوں کے حقوق کی نمائندہ کے درمیان تلخ تکرار
اقوامِ متحدہ میں بچوں اور مسلح تنازعات پر خصوصی نمائندہ کی رپورٹ پر اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن اور پرامیلا پیٹن کے درمیان عوامی سماعت کے دوران سخت جھگڑا ہو گیا۔ ڈینن نے پیٹن کی اس رپورٹ کی شدید مذمت کی جس میں پہلی بار اسرائیل کو جنسی تشدد کے الزامات پر بلیک لسٹ کیا گیا تھا اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ “آپ اقوامِ متحدہ کے لیے کام کرتی ہیں، اب خاموش رہیں گی۔”
مالٹا کی سابق مندوب کی جانب سے جاری اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیلی آبادکار گروہوں کو بھی بچوں کے خلاف خلاف ورزیوں پر عالمی بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے فلسطینی بچوں کے خلاف خلاف ورزیوں میں ‘حیران کن’ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد کا غزہ قرارداد پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ
پاکستان نے غزہ میں فوری اور بلا روک ٹوک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور انسانی بحران سفارتی کوششوں کے باوجود جاری ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ تقریباً 20 لاکھ فلسطینی قتل، محرومی، بے گھری اور غیر یقینی کی صورتِ حال میں پھنسے ہوئے ہیں۔
انہوں نے ناکہ بندی کو فوری ختم کرنے، رفح سمیت تمام گزرگاہیں کھولنے اور انسانی امداد کو غیر مشروط بنانے پر زور دیا۔ عاصم افتخار نے زور دے کر کہا کہ پائیدار حل کے لیے مستقل جنگ بندی، تعمیرِ نو اور ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل ناگزیر ہے جس کا اختتام قبل از 1967 سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر ہو جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی اموات 1000 سے تجاوز کر گئیں
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ تازہ ترین کارروائیوں میں غزہ شہر کی ایک اہم شاہراہ پر گاڑی پر حملے میں 3 افراد شہید ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اس دوران اسرائیل کے 4 فوجی بھی مارے گئے ہیں۔
آٹھ عرب اسلامی ممالک کی مغربی کنارے میں آباد کاروں کے بڑھتے تشدد کی مذمت
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے مسلسل اور بڑھتے ہوئے تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ مشترکہ بیان میں رام اللہ کے شمال میں واقع دو مساجد پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی مقامات کے تقدس کی صریح خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
وزراء نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے یہ غیر قانونی اقدامات عدم استحکام، تشدد اور انتہا پسندی کو ہوا دیتے ہیں اور خطے میں امن کے قیام کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
