وزیر خارجہ عراقچی کا اعلان: “مساوی سطح” پر بات چیت کے لیے تیار، لیکن دفاعی صلاحیتیں زیر بحث نہیں
اسلامی جمہوریہ ایران نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ یہ مذاکرات “منصفانہ اور مساوی سطح” پر ہوں۔ تاہم، تہران نے دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت سے واضح انکار کر دیا ہے۔
ترکی کے دارالحکومت استنبول میں اپنے ترکی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا، “اگر مذاکرات منصفانہ اور مساوی ہوں گے تو اسلامی جمہوریہ ایران ان میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا، “میں مضبوطی کے ساتھ یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور میزائل کبھی بھی مذاکرات کا موضوع نہیں بنیں گے۔”
امریکی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کے درمیان اہم موقف
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر امریکہ کی طرف سے سخت دباؤ بڑھ رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ وہ “امید کرتے ہیں کہ انہیں ایران پر طاقت استعمال نہ کرنی پڑے”، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایک طاقتور بحری بیڑا “ایران نامی ملک” کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اس کے جواب میں ایرانی فوجی کمانڈروں نے متنبہ کیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں “فیصلہ کن جواب فوری طور پر” دیا جائے گا۔ ایرانی وزیر دفاع عامر حاتمی نے کہا کہ جواب “کچل دینے والا” ہوگا اور انکشاف کیا کہ فوج کے کمبیٹ رجمنٹس کو 1,000 ڈرونز سے لیس کیا گیا ہے۔
یورپی یونین کے فیصلے پر ایران کی سخت تنبیہ
حالیہ تناؤ اس وقت اور بڑھ گیا جب یورپی یونین نے ایران کے طاقتور انقلابی گارڈز کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر اتفاق کیا۔ ایران کے چیف جسٹس غلامحسین محسنی اژئی نے کہا کہ یورپیوں کو اس “بے وقوفانہ” فیصلے کے “نتائج بھگتنے” پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی یہ “دشمنانہ کارروائی” بلا جواب نہیں رہے گی۔
عراقچی نے تصدیق کی کہ فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔ انہوں نے ایران کے روایتی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک “کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا”۔
بین الاقوامی مبصرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا “مساوی سطح” کی یہ شرط اور میزائل پروگرام پر بات چیت سے انکار، جو کہ پہلے سے ہی غیر یقینی صورتحال میں مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے قابل قبول ہوگا۔

