فرانس کی بحری پریفیکچر کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق، گزشتہ برس تقریباً 50 ہزار تارکین وطن نے کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچنے کی کوشش کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ 2025 میں بھی جاری رہا اور اس میں کوئی خاص کمی واقع نہیں ہوئی۔
خطرناک سفر کے حیرت انگیز اعداد و شمار
منگل کو جاری کیے گئے سالانہ جائزے کے مطابق، 2025 کے دوران 795 کشتیوں پر سوار کل 49,966 افراد نے فرانس سے برطانیہ کا خطرناک سفر اختیار کیا۔ بحری پریفیکچر کے مطابق ان کوششوں میں “کوئی خاص کمی دیکھنے میں نہیں آئی”۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق:
- 6,177 افراد کو بحری آپریشنز کے دوران بچایا گیا۔
- بدقسمتی سے 25 افراد ہلاک ہو گئے۔
- 2 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
سمگلروں کی خطرناک حکمت عملیاں
حکام نے خبردار کیا ہے کہ سمگلر تارکین وطن کے لیے خطرات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ ایک کشتی پر سوار ہونے والے افراد کی اوسط تعداد 2021 میں 26 سے بڑھ کر 2025 میں 63 ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال دس سے زائد کشتیوں میں ایک سو سے زیادہ افراد سوار تھے۔
ایک اور تشویشناک رجحان ‘ٹیکسی بوٹس’ کا ہے، جو اب کل کشتیوں کا 45 فیصد ہیں۔ اس طریقہ کار میں 8 سے 10 میٹر لمبی ربر کی کشتیاں دور دراز مقامات سے روانہ کی جاتی ہیں اور ساحل کے قائم پانیوں میں ٹھنڈے پانی میں تارکین وطن کو سوار کیا جاتا ہے۔
چینل کی مشکل حالات
بحریہ کے وائس ایڈمرل بینوٹ ڈی گبرٹ نے بتایا کہ انگلش چینل ایک انتہائی مصروف آبی گزرگاہ ہے جہاں ماہی گیری، تجارتی جہاز رانی اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی وجہ سے نقل و حرکت بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہاں نویگیشن کی حالتیں “انتہائی مشکل” ہیں۔
برطانوی اعداد و شمار
برطانوی حکومت کے یکم جنوری کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں 41,472 تارکین وطن فرانس سے چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ تعداد 2022 کے ریکارڈ 45,774 کے بعد دوسری سب سے بڑی تعداد ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ یہ بحران جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کی یہ بڑی تعداد خطرناک سمندری حالات اور سمگلروں کی بڑھتی ہوئی بے رحم حکمت عملیوں کے باوجود یہ سفر جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے انسانی المیے کے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

