ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اس کا جواب گزشتہ جون کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ تاہم، ماہرین کے مطابق تہران کی ’علاقائی جنگ‘ برپا کرنے کی دھمکی اور اس کی عملی صلاحیت کے درمیان واضح فرق ہے۔
خامنہ ای کا وارننگ اور ٹرمپ کا غیر واضح رویہ
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے یکم فروری کو کہا کہ ’’امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر انہوں نے جنگ چھیڑی تو اس بار یہ علاقائی جنگ ہوگی۔‘‘ دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ مبہم ہے۔ انہوں نے ایک طرف خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کا اعلان کیا تو دوسری طرف ایران کے ساتھ ’’معاہدے‘‘ کی امید بھی ظاہر کی۔
ایرانی ردعمل: جون کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ؟
ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں ایران کا جواب پچھلے مقابلے کے مقابلے میں کم حساب کتاب اور زیادہ جارحانہ ہو سکتا ہے۔ بی بی سی کے صحافی امیر عظیمی کے مطابق، ’’تہران اب وہ احتیاطی راستہ اختیار نہیں کر سکتا جو اس نے ماضی میں اپنایا تھا۔‘‘ داخلی سیاسی دباؤ کے باعث ایرانی قیادت کے لیے یہ ’بقا کی جنگ‘ بن سکتی ہے۔
خلیجی ممالک کی احتیاط: امریکہ کو فضائی راستے کی اجازت نہیں
صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم خلیجی اتحادیوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے اپنا فضائی یا زمینی راستہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ اقدام واضح طور پر ممکنہ ایرانی انتقامی کارروائیوں سے بچنے کی کوشش ہے۔
ایران کا فوجی ذخیرہ: خطرہ برقرار مگر محدود
واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس اب بھی امریکی اڈوں اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کافی میزائل موجود ہیں۔ ایران نے جون کی جنگ کے بعد اپنی میزائل پیداوار دوگنی کر دی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی صلاحیتوں کے باوجود وہ امریکہ کے ساتھ براہ راست جنگ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
بین الاقوامی تنہائی اور پراکسی اتحادیوں کا زوال
نیو یارک ٹائمز کے مطابق، ایران کی ’’علاقائی بالادستی‘‘ گزشتہ دو سالوں میں اسرائیل کی جانب سے حماس اور حزب اللہ جیسے اس کے اہم پراکسی اتحادیوں پر حملوں کے بعد کمزور ہوئی ہے۔ عراق اور یمن میں اس کے اتحادی گروہوں نے بھی جون کی جنگ کے دوران جوابی کارروائی میں واضح ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، جس سے تہران کی دھمکی کی عملی تاثیر کم ہوتی نظر آتی ہے۔
امریکی تیاری: دفاعی نظام کی تعیناتی
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ ایران پر کسی بڑے حملے سے پہلے خطے میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے دفاعی نظام کو مضبوط کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ پینٹاگون THAAD اور پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹمز تعینات کر رہا ہے تاکہ کم اور درمیانی فاصلے تک کے میزائل حملوں کو روکا جا سکے۔
خلاصہ یہ کہ ایران کے پاس خطے میں تناؤ بڑھانے کی صلاحیت ضرور ہے، لیکن ایک مکمل ’علاقائی جنگ‘ چھیڑنے اور اسے جیتنے کے امکانات فی الحال محدود نظر آتے ہیں۔

