تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو قوم کے نام ایک تحریری پیغام میں انکشاف کیا کہ انہوں نے ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کی منظوری اس وقت دی جب اس معاہدے کے بارے میں ان کا اپنا ’مختلف مؤقف‘ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام کی جانب سے یہ یقین دہانی ملنے کے بعد کیا گیا کہ ایران کے قومی حقوق اور ’مزاحمتی محاذ‘ کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبوں پرانے حریفوں کے درمیان ہونے والے اس معاہدے نے وسیع تر مسائل بشمول ایرانی جوہری پروگرام پر 60 روزہ مذاکرات کی راہ ہموار کر دی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای، جو 28 فروری کو جنگ کے پہلے روز ایک فضائی حملے میں اپنے والد اور دیرینہ حکمران علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر بنے تھے، نے واضح کیا کہ آئندہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا مطلب ’دشمن کے مؤقف‘ کو قبول کرنا نہیں ہوگا۔
اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی ذمہ داری
خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ صدر پزشکیان نے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے اس بات کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ معاہدہ ایران کے مفادات کا تحفظ کرے گا اور اگر واشنگٹن کی جانب سے ضرورت سے زیادہ مطالبات کیے گئے تو ان کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے اپنی اجازت ان عہدیداروں کے اس عزم کی وجہ سے دی کہ وہ ایرانی قوم کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔‘
عالمی منڈیوں پر فوری اثر اور آبنائے ہرمز کی صورتحال
ٹرمپ اور پزشکیان کے دستخط کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی، تاہم آبنائے ہرمز میں سرگرمیاں اب بھی محدود ہیں۔ امریکی افواج نے جمعرات کی صبح ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی اٹھا لی، لیکن امریکی جنگی جہاز ’عمومی علاقے میں موجود رہیں گے‘۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ایک نئے سرکاری ادارے کو درخواست جمع کرانی ہوگی، البتہ ساٹھ روز کی مدت کے لیے کوئییس وصول نہیں کی جائے گی۔
مستقل امن پر شکوک و شبہات
اگرچہ اس معاہدے کو ایران میں بعض حلقوں نے امریکا کی ’ناکامی‘ قرار دیا ہے، لیکن عام شہریوں میں امن کے امکانات کے حوالے سے مایوسی پائی جاتی ہے۔ تہران کی 54 سالہ ماہر نفسیات مینا کا کہنا تھا کہ ’مجھے کوئی امید نہیں کہ ی ایک پائیدار معاہدہ ہے۔ شاید 60 دنوں کے بعد وہ دوبارہ لڑنا شروع کر دیں۔‘ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی اس جذبات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’یقین نہیں‘ کہ جنگ ’مکمل طور پر ختم‘ ہو چکی ہے۔
معاہدے کے متن کے تحت واشنگٹن ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے والی تیل کی پابندیاں فوری طور پر معطل کرنے کا پابند ہے۔ جب ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدہ طے پا جائے گا، تو امریکہ علاقائی ممالک کے تعاون سے 300 بلین ڈالر کے تعمیر نو کے فنڈ کے اجرا میں سہولت فراہم کرے گا۔
اندرونی اور بیرونی تنقید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر بل کیسڈی نے ’کئی دہائیوں کی بدترین خارجہ پالیسی کی غلطی‘ قرار دیا ہے۔ اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے جی 7 سربراہی اجلاس میں دھمکی دی کہ اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وہ اسے ’تباہ‘ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایران میں بھی سخت گیر حلقوں کی جانب سے اس معاہدے پر تنقید کی گئی ہے، جسے ’مسلط کردہ جنگ‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ تاہم پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس معاہدے کو امریکا کی ’ناکامی‘ قرار دیا۔
