آئینی فریضہ، وفاق کی خواہش نہیں
پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے جمعہ کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خیبر پختونخوا کا بجٹ وفاقی حکومت کی درخواست پر نہیں بلکہ صوبے کی آئ اور قانونی ذمہ داری کے طور پر منظور کیا جا رہا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ بجٹ کی منظوری ایک صوبائی معاملہ ہے اور اس کا وفاقی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی بجٹ منظور کیا جائے گا اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سمیت تمام قانون ساز اسمبلی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
بجٹ میں تاخیر کی تجاویز مسترد، عوامی مفاد کو ترجیح
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے انکشاف کیا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ابتدائی طور پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک بجٹ ملتوی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک تجویز یہ بھی تھی کہ اگر قانونی پیچیدگیاں ناگزیر ہو جائیں تو تین ماہ کا بجٹ پیش کیا جائے، تاہم قانونی ماہرین نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے پورے صوبے میں ترقیاتی کام رک جائیں گے اور یہ صرف تنخواہوں اور پنشن جیسے معاملات کا احاطہ کرے گا۔
یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی نے بالآخر صوبے کو نقصان سے بچانے اور ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مکمل بجٹ پیش کرنے کی سفارش کی۔ انہوں نے اس فیصلے کو وسیع تر عوامی مفاد میں قرار دیتے ہوئے تصدیق کی کہ بجٹ آج ہی پیش کیا جائے گا۔ اندرونی اختلافات کی خبروں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحفظات رکھنے والے ارکان پارٹی کے خلاف بغاوت نہیں کر رہے اور پی ٹی آئی کے ساتھ پرعزم ہیں تمام قانون ساز اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے، اپنی تقاریر میں خدشات کا اظہار کریں گے اور بالآخر پارٹی کے موقف کے حق میں ووٹ دیں گے۔
دو اعشاریہ دو کھرب روپے کا ٹیکس فری بجٹ
صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق مالی سال 27-2026 کے لیے مجوزہ بجٹ کا حجم 2.170 کھرب روپے سے زائد ہے۔ اس میں 519 ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی پروگرام شامل ہے، جس میں بین الاقوامی امدادی اداروں سے 150 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص ہیں۔ بجٹ میں مقامی حکومتوں کے لیے 55 ارب روپے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ اور 2022 اور 2025 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو ضم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
شوکت یوسفزئی نے واضح کیا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا بلکہ عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے متعدد ٹیکسوں میں کمی کی جا رہی ہے، جسے انہوں نے ٹیکس فری بجٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت احتجاجاً گرانٹ ان ایڈ ادائیگیوں کو بجٹ میں شامل نہیں کر رہی اور الزام لگایا کہ وفاقی حکومت نے صوبے کو اس کا جائز مالی حصہ فراہم نہیں کیا۔
ترقی اور خود انحصاری پر توجہ
انہوں نے بتایا کہ تعلیم اور صحت اولین ترجیحات رہیں گی جبکہ سیاحت، کان کنی، آبی وسائل اور بجلی کی پیداوار صوبے کو مزید خود انحصار بنانے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ چھوٹے اور بڑے بجلی کے منصوبوں پر کام جاری ہے اور صوبائی حکومت سیاحت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ یوسفزئی نے وفاقی حکومت پر تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی سڑکوں پر کام آگے نہیں بڑھ رہا اور اسلام آباد پر زور دیا کہ وہ صوبے ترقیاتی کوششوں میں معاونت کرے۔
پی ٹی آئی ارکان کی حکمت عملی کا اجلاس
ادھر سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی مشتاق غنی نے بتایا کہ 35 ہم خیال پی ٹی آئی قانون سازوں کا اجلاس دوپہر 2 بجے منعقد ہوگا تاکہ بجٹ پر حتمی حکمت عملی طے کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پہلے کہتے تھے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے قبل بجٹ پیش نہیں کیا جائے گا لیکن اب وہ اس موقف سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ غنی نے سوال اٹھایا کہ بجٹ پیش کرنے سے وفاقی حکومت پر دباؤ کیسے پڑے گا اور دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے لیے کوئی معنی خیز دباؤہیں ڈالا جا رہا۔
