امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ ہفتے کے روز ساتویں ماہ میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ تہران نے واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کوئی مذاکرات اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایران کی تمام شرائط تسلیم نہ کی جائیں۔ ادھر برکس ممالک نے کسی بھی ملک کی یکطرفہ جنگ کی مذمت پر مشتمل مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کر لیا ہے۔
ایران کا مذاکرات سے صاف انکار
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جب تک ایران کے مطالبات منظور نہیں کیے جاتے، واشنگٹن کے ساتھ بات چیت بے سود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکی فریق ایران کی تمام شرائط قبول کرنے سے انکار کرتا رہے گا تو مذاکرات کا کوئی مقصد نہیں رہے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان جولائی میں جنگ بندی کے بعد دوبارہ جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں۔ اگست کے بیشتر حصے میں لڑائی میں وقفہ رہا، تاہم اب حملوں کا سلسلہ پھر تیز ہو گیا ہے۔
جنگ کا پس منظر
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے “بڑے جنگی آپریشنز” کا اعلان کیا۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے، اور مارچ میں ان کے بیٹے مجتبیٰ نے ان کی جگہ لی۔
- 8 اپریل کو دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا
- اس کے بعد پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے
- جون میں ابتدائی معاہدہ طے پایا، مگر جھڑپیں جاری رہیں
- جولائی میں آبنائے ہرمز پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا
برکس کا مشترکہ اعلامیہ
رائٹرز کے مطابق ابھرتے ہوئے معیشتوں کے گروپ برکس نے ہفتے کے روز مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کیا ہے، جس میں کسی بھی ملک کی یکطرفہ جنگ کی مذمت کی گئی ہے۔ یہ اعلامیہ نئی دہلی میں سربراہی اجلاس سے چند گھر قبل حتمی شکل دی گئی۔
ذرائع کے مطابق اعلامیے میں کسی ملک کا نام لینے کا امکان نہیں، تاہم اس میں یکطرفہ فوجی کارروائی کو مسترد کیا جائے گا۔ اجلاس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خلیجی تنازعے پر پیدا ہونے والے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے برکس اقتصادی سربراہ اجلاس سے خطاب میں رکن ممالک پر زور دیا کہ باہمی تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی نظام چند مخصوص کرنسیوں پر انحصار کے باعث سیاسی جھٹکوں کا شکار ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری تحفظ کے اوقات محدود
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ صرف مخصوص اوقات میں سفر کریں تاکہ فوجی تحفظ کی ضمانت دی جا سکے۔ ایران کی جانب سے رات کے وقت بحری جہازوں پر حملوں میں اضافے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
واشنگٹن مئی سے ان جہازوں کو فضائی دفاع فراہم کر رہا ہے جو آبنائے کے جنوبی جانب عمانی ساحل کے قریب سے گزرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر کے آغاز میں تحفظ کے اوقات کو روزانہ صرف دو مخصوص وقتوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فوج نے خلیجی خطے میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران 99 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔
حوثیوں کا بحیرہ احمر کے ساحل پر مکمل کنٹرول
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ حوثیوں نے ملک کے پورے بحیرہ احمر کے ساحل پر قبضہ کر لیا ہے۔ حوثیوں نے آبنائے باب المندب میں واقع اسٹریٹجک جزیرہ میون اور حنیش کے بڑے اور چھوٹے جزیروں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے بیان میں کہا کہ باب المندب سے بحری گزرگاہ تمام کمپنیوں کے لیے محفوظ ہے، سوائے سعودی جہازوں کے جن پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ایران پیر کے روز عمان میں عراق اور خلیج سے متصل عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں آبنائے ہرمز سے محفوظ تجارتی بحری راستوں پر بات چیت ہوگی۔
سعودی عرب پر ڈرون حملے، عراق کا سرحدی چوکی بند کرنے کا حکم
سعودی عرب نے عراق سے داغے گئے ڈرونز کے ذریعے مشرقی-مغربی پائپ لائن پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق حملے میں کئی افراد زخمی ہوئے اور پائپ لائن کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ عراقی وزیراعظم کی درخواست پر عراقی حکومت کو ضروری اقدامات کا موقع دینے کے لیے سعودی عرب نے اس مرحلے پر جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق تحقیقات میں تصدیق ہونے کے بعد میسان صوبے میں کارروائیوں کے ذمہ دار فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عراق نے شلمچہ سرحدی چوکی ایران کے ساتھ بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ترکی اور قطر کے ہم منصبوں سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ٹرمپ کا ایران کے خلاف ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ جاری رکھنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 11 ستمبر کے حملوں کی برسی کے موقع پر پینٹاگون میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف “دہشت گردی کے خلاف جنگ” جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ادھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں بحری گزرگاہ کی آزادی، تجارت اور بحری جہازوں کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات برکس سربراہ اجلاس کی موقع پر نئی دہلی میں ہوئی۔
