اسلام آباد:اک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سمر کیمپ 2026 میں شریک 4 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات سے ایک خصوصی انٹرایکٹو سیشن میں ملاقات کی اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، اس سمر کیمپ میں پاکستان بھر کے 18 سے زائد شہروں سے نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ شرکت کر رہے ہیں۔ سیشن کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور قومی سلامتی کے حوالے سے نوجوان نسل کو درپیش خطرات پر کھل کر بات کی۔
بلوچستان میں دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کا انکشاف
سیشن میں شریک طلبہ نے بتایا کہ انہیں بلوچستان میں جاری دہشت گردانہ کارروائیوں میں ‘فتنہ الہندوستان’ اور ‘فتنہ الخوارج’ کے کردار کے بارے میں خصوصی طور پر آگاہ کیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے وضاحت کی کہ یہ عناصر کس طرح پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں پروپیگنڈے کا مقابلہ
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں جھوٹی معلومات اور پروپیگنڈہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے، جس کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
انٹرایکٹو سیشن کے اختتام پر طلبہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
سمر کیمپ کا مقصد نوجوانوں کی تربیت ہے
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سمر کیمپ 2026 کا انعقاد ایک اہم قومی اقدام ہے جس کا مقصد نوجوانوں میں ملکی آگاہی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ذہنی نشوونما میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کو طلبہ کی جانب سے بے حد سراہا گیا اور انہوں نے اسے اپنے مستقبل کے لیے انتہائی مفید قرار دیا۔
