فیڈرل آئینی عدالت کے جج کا تاریخی نوٹ
اسلام آباد: فیڈرل آئینی عدالت کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے نور مقدم قتل کیس کو معاشرے میں بڑھتے ہوئے غیر اخلاقی رجحانات سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ معاشرتی اصلاح کاروں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ساتھ اضافی نوٹ
جسٹس نجفی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے ساتھ اپنا سات صفحوں پر مشتمل اضافی نوٹ جاری کیا جس میں مقدمے کے ملزم ظہیر جعفر کی اپیل خارج کر دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس معاشرے کے اعلیٰ طبقے میں پھیلنے والے ایک برے رجحان کا نتیجہ ہے جسے انہوں نے ‘لائیو ان ریلیشن شپ’ کا نام دیا۔
نوجوان نسل کے لیے انتباہ
جج نے نوجوان نسل کو خبردار کیا کہ وہ غیر شادی شدہ رہائشی تعلقات کے ‘خوفناک نتائج’ کو سمجھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ نوجوان نسل اس کے خوفناک نتائج کو نوٹ کریں جیسا کہ موجودہ کیس میں ہوا”۔
ریاستی کردار پر زور
جسٹس نجفی نے زور دیا کہ ریاست کو نوجوانوں کو رہائشی تعلقات، منشیات کے استعمال اور متعلقہ معاشرتی خطرات کے بارے میں تعلیم دینے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
ملزم کی سزاؤں کی تفصیل
- ظہیر جعفر کو قتل کے جرم میں سزائے موت برقرار رکھی گئی
- زیات کاری کے الزام میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا
- ملزم کے گھریلو عملے کے دو ارکان کو 10 سال قید کی سزا
- جعفر کے والدین اور تھراپی ورکس کے ملازمین بری کر دیے گئے
واقعے کا پس منظر
27 سالہ نور مقدم جولائی 2021 میں اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7/4 میں ایک پرائیویٹ رہائش گاہ پر مردہ پائی گئیں۔ مرکزی ملزم ظہیر جعفر کو واقعے کے موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ابتدائی ایف آئی آر کے مطابق نور کو تیز دھار ہتھیار سے قتل کرنے کے بعد سر قلم کر دیا گیا تھا۔
عدالتی عمل کا تسلسل
فروری 2022 میں ضلعی اور سیشنز کورٹ نے جعفر کو سزائے موت سنائی۔ مارچ 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزائے موت برقرار رکھی اور 25 سالہ قید کی سزا کو بھی سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔ مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے ظہیر جعفر کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔

