نیویارک: نیشنل ایکشن نیٹ ورک کے اجلاس میں شرکت کے دوران نائب صدر کمالا ہیرس نے 2028 میں صدارتی امیدوار بننے کے امکان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں غور کر رہی ہیں اور ان کے پاس قیادت کا وسیع تجربہ موجود ہے۔
پارٹی کے اندر سے تحفظات
اگرچہ ہیرس کو تقریب میں زبردست پذیرائی ملی، لیکن جمہوری پارٹی کے بڑے عطیہ دہندگان اور اسٹریٹجسٹ تبدیلی کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک نامعلوم اسٹریٹجسٹ نے کہا، “ہم بالکل وہی کام کیوں دہرائیں گے؟” جبکہ ایک کنسلٹنٹ نے مشورہ دیا کہ امیدواروں کو ہیرس کے ساتھ مہم چلانے سے گریز کرنا چاہیے۔
سیاہ فام ووٹرز میں مقبولیت لیکن چیلنجز باقی
ہیرس سیاہ فام ووٹرز، جو جمہوری پارٹی کا اہم حصہ ہیں، میں مقبول ہیں۔ تاہم، میری لینڈ کے گورنر ویس مور اور نیو جرسی کے سینیٹر کوری بکر جیسے دیگر سیاہ فام امیدوار ان کی اس حمایت کو چیلنج کر سکتے ہیں۔
ابتدائی سروے میں آگے لیکن راستے میں رکاوٹیں
2028 کے ابتدائی سروے میں ہیرس دیگر ممکنہ امیدواروں جیسے پیٹ بٹیجیگ، الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور گیون نیوسم سے آگے ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر نئی قیادت کی خواہش، خاص طور پر نوجوان، لاطینی اور ترقی پسند ووٹرز میں، ان کی مہم کے لیے اہم رکاوٹ ہو سکتی ہے۔
تنقیدوں کا سامنا
ہیرس پر صدر بائیڈن سے واضح طور پر اختلاف نہ کرنے اور معاشی مسائل کے بجائے جمہوریت پر زیادہ توجہ دینے کی پالیسیوں پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر وہ باقاعدہ امیدوار بنتی ہیں تو یہ تنقیدیں عوامی سطح پر زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہیں۔
