geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
August 7, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • to Find the Perfect Spot to Watch the August 12 Solar Eclipseصاف افق، بہترین موسم… 12 اگست کے سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے بہترین جگہ کیسے تلاش کریں
    • How to Turn Kids' Hikes Into Joyful Adventuresبچوں کے ساتھ ہائیکنگ کو مہم جوئی میں کیسے بدلیں؟ ماہرین کے آسان اور کارآمد مشورے
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    صحت و تندرستی
    • How Long Is Too Long on the Toilet? Experts Weigh Inبیت الخلاء میں کتنا وقت گزارنا صحت کے لیے بہتر ہے؟ ماہرین نے اہم انکشاف کر دیا
    • How Long Is Too Long on the Toilet? Doctors Weigh Inفرانس میں گرمی کی لہر جاری، 20 محکموں میں اورنج الرٹ جاری
    • Hot Weather Sex: Expert Tips for Summer Intimacyشدید گرمی میں مباشرت: ماہرین کے مشورے جو آپ کی محفل کو خوشگوار بنائیں گے
    دلچسپ اور عجیب
    • to Find the Perfect Spot to Watch the August 12 Solar Eclipseصاف افق، بہترین موسم… 12 اگست کے سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے بہترین جگہ کیسے تلاش کریں
    • How to Turn Kids' Hikes Into Joyful Adventuresبچوں کے ساتھ ہائیکنگ کو مہم جوئی میں کیسے بدلیں؟ ماہرین کے آسان اور کارآمد مشورے
    • How Long Is Too Long on the Toilet? Experts Weigh Inبیت الخلاء میں کتنا وقت گزارنا صحت کے لیے بہتر ہے؟ ماہرین نے اہم انکشاف کر دیا
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • EU Mandates AI Labels to Combat Online Deceptionیورپی یونین کا نیا قانون: اب آن لائن اصلی اور مصنوعی مواد میں فرق واضح ہوگا
    • Google Pulls AI Image Tool from Earth Over Disinfo Fearsگوگل ارت کا متنازعہ اے آئی ٹول شدید تنقید کے بعد واپس لے لیا گیا
    • Google Pulls AI Image Tool from Earth Over Misinformation Fearsگوگل ارتھ میں مصنوعی ذہانت سے تصاویر بنانے کا نیا فیچر غلط معلومات کے خدشات کے باعث واپس لے لیا گیا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

کراچی کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے

January 1, 2019 1 1 min read
Karachi
Share this:

Karachi

تحریر : قادر خان یوسف زئی

شہر قائد میں امن و سکون ایک ایسا خواب بنتا جا رہا ہے جس کی کوئی تعبیر نظر آرہی۔گو کہ قیام امن کے لئے سیکورٹی فورسز نے قیمتی جانوں کی قربانیاں دے کر ایک ایسا امن تو قائم کردیا ہے۔ جہاں اب روزانہ 20/30ٹارگٹ کلنگ کی واقعات نہیں ہوتے،بوری بند لاشیں، بھتہ خوری، ہڑتالوں اور ہنگاموں کا ایسا سلسلہ نہیں رہا جہاں عام شخص کی جان مال محفوظ نہ تھی۔تاہم امن دشمن عناصر ایسے واقعات کرتے رہتے ہیں جس سے اہل کراچی تشویش کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ویسے تو اڑھائی کروڑ کی آبادی میں جرم کو مکمل طور پر تو ختم نہیں کیا جاسکتا، لیکن مخصوص شخصیات کو نشانہ بنانے اور پھر خاص مقاصد کے لئے دہشت گردی کے واقعات کرم خوردہ اہل کراچی کو ہراساں کردیتے ہیں۔ایم کیو ایم (پاکستان) کے رہنما و سابق صوبائی اسمبلی کے رکن علی رضا عابدی کی ٹارگٹ کلنگ نے ملک دشمن عناصر کے عزائم کو دوبارہ عیاں کردیا کہ شہر قائد اب بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔پولیس تفتیش جاری ہے۔

اس وقت تفتیشی ادارے کئی زاویوں سے تحقیق کررہے ہیں۔ ان ہی کڑیوں میں بانی ایم کیو ایم کی ایسی تقریر کے پس منظر کو بھی دیکھا جارہا ہے جس میں انہوں نے نام لے کر اپنے کارکنوں کو پارٹی چھوڑنے والوں و مخالفین کو نشانہ عبرت بنانے کی اشتعال انگیز تقریر کی۔بانی ایم کیو ایم کی جانب سے سخت تقریر سے حکومتی حلقوں میں بھی تشویش پیدا ہوئی ہے کہ اس قسم کی تقاریر سے کراچی میں انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ ماضی میں دھڑے بندیوں کی وجہ سے لسانی تنظیم میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بام عروج پر تھا۔ تاہم اس وقت اچھی بات یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم (پاکستان)، حقیقی اور پی ایس پی نے عدم تشدد کی راہ اپنائی ہے۔ خاص طور ایم کیو ایم (پاکستان) نے سیاسی طور پر دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی ہے۔ ایم کیو ایم (پاکستان) کے دودھڑے بننے اور باہمی اختلافات نے انہیں نقصان پہنچایا اور انہیں اپنی کئی مضبوط سیٹوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ تاہم ضمنی بلدیاتی انتخابات میں کامیابی نے انہیں حوصلہ دیا ہے۔

گوکہ اب بھی ایم کیو ایم (پاکستان) کے رہنماؤں میں اختلافات موجود ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار گروپ اور بہادر آباد گروپ کے درمیان اختلافات سے ان کا اپنا مینڈیٹ تقسیم ہوا۔ایم کیو ایم (لندن) کے اشتعال انگیز تقاریر و سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے سیاسی ماحول پرگنداہ ہورہاہے۔ پا ک سر زمین پارٹی میں شامل ہونے والے کارکنان بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کے ٹاؤن آفس پر بھی حملہ ہوا۔ تاہم سید مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ وہ تشدد کے بجائے قانون کا راستہ اختیار کریں گے۔ ان کی جماعت کی جانب سے کارکنان و ذمے دارن کی ذہنی تربیت کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری ہے۔ پی ایس پی کے رہنما 45منٹ کی تربیتی نشست میں جس طریقے سے اپنے کارکنوں و ذمے داروں کی سیاسی تربیت کررہے ہیں وہ ایک انتہائی مثبت عمل ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنان کی سیاسی تربیت کے لئے سنجیدہ سیاسی نشستوں کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی سیاسی جماعت کے منشور اور مقصد کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ سیاسی اختلافات ہونا ایک فطری عمل ہے لیکن سیاسی اختلافات میں اگر تشدد و جبر شامل ہوجاتا ہے تو اس کے اثرات بڑے منفی مرتب ہوتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے پرتشدد سیاست نے اہل کراچی کی زندگیوں اجیرن بنا دیا تھا۔ اب کئی عشروں بعد کراچی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا دوبارہ مرکز بن رہا ہے تو اس میں برداشت کی سیاست کا ہونا ناگزیر ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کراچی کی سیاست سے جیسے گم ہوچکی تھی۔ اے این پی کے صوبائی رہنماؤں نے انتخابات میں ووٹ کے لئے عوامی رابطوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ انتخابات میں ناکامی کے بعد اے این پی کی سیاست پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا تھا۔ تاہم ضمنی بلدیاتی انتخابات میں اے این پی نے جنرل کونسلر کی نشست پر کامیابی حاصل کرکے کئی سیاسی حلقوں کو حیران کردیا کہ اے این پی اب بھی کراچی میں ایک سیاسی حقیقت کے طور پر موجود ہے۔اے این پی نے ضمنی بلدیاتی انتخابات میں کامیابی سے کارکنان میں نئے جوش بھی پیدا کردیا ہے۔ اے این پی، عدم تشدد کی سیاست میں اپنا اہم کردار کراچی میں دوبارہ ادا کرسکتی ہے اگر وہ عوامی رابطہ مہم کا سلسلہ سنجیدگی سے شروع کرے اور اپنے کارکنان کی سیاسی تربیت کو یقینی بنائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت احتساب کی زد میں ہے، پی پی پی کی اعلیٰ قیادت، خاص کر سندھ کے اہم رہنماؤں کے نام اے سی ایل سی میں ڈالے جانے کے بعد ایک نئی سیاسی سرگرمیوں کا بھی آغاز شروع ہونے والا ہے۔ 24دسمبر کو بینکنگ کورٹ میں جس طرح پی پی پی کے رہنما اور کارکنان آئے تھے، بادی النظر ایسا لگتا ہے کہ پی پی پی کے اہم رہنماؤں کے گرد جے آئی ٹی کے بعد نیب کا شکنجہ سخت ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سیاسی افراتفری کے لئے کراچی جیسا حساس شہر پورے ملک کو دوبارہ متاثر کرسکتا ہے۔ سیاسی مخالفین کے درمیان باہمی چپقلش کی وجہ سے کراچی پرتشدد سیاست کا گڑھ بن سکتا ہے۔ دوبارہ کراچی میں پرتشدد سیاست کو پروان چڑھانے کی بھی سازش کی جاسکتی ہے۔ اس صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر رینجرز نے جس طرح شہر قائد کو دہشت گردی سے نجات دلائی، ان پر مزید ذمے داریاں بڑھ جاتی ہیں کہ کراچی میں سیاسی و سماجی صحت مندانہ رجحان کی حوصلہ افزائی کریں اور عوام میں اعتماد بحال کرنے کے لئے ایسے اقدامات کریں جس سے اہل کراچی دوبارہ مایوسی اور خوف میں مبتلا نہ ہوسکیں۔اہل کراچی کو اس وقت سہارے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے مثبت کردار سے اہل کراچی کو خوف کے ماحول سے باہر نکال سکتی ہیں۔

پی ٹی آئی کو کراچی میں ایک بھر پور مینڈیٹ ملا ہے، انہیں کوشش تیز کرنی چاہیے کہ اہل کراچی میں احساس محرومی کو دور کرنے کے لئے کراچی پیکچ پر جلد از جلد عمل درآمد کروانے کی کوشش کریں۔ ممکنہ بلدیاتی انتخابات اگر اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہونے کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں کراچی میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کو بڑھائیں۔ یہ طرز عمل مایوس کن ہوتا ہے کہ جب انتخابات نزدیک آتے ہیں تو سیاسی جماعتوں کے رہنما سرگرم ہوجاتے ہیں اور انتخابات کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی غیر سنجیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس طرز عمل کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی کی سیاست ملک کے دیگر حصوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی ترجیحات و معاملات کی نوعیت بھی ملک کے دیگر حصوں سے جداگانہ ہے۔

کراچی حساسیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں بلکہ اہل کراچی کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ کراچی کی بدحالی و عدم ترقی کی بنیادی وجوہات میں اہل کراچی کا چپ رہنا بھی سب سے اہم وجہ ہے۔ خاموش اکثریت کو اپنے آنے والی نئی نسل کی بقا کے لئے میدان عمل میں باہر نکلنا ہوگا۔ نوجوانواں میں منفی رجحانات کو سب سے پہلے اپنے گھروں سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مثبت سماجی سرگرمیوں میں نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ صحت مندانہ رجحان کو پروان چڑھانے کے لئے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ نوجوانوں کو منفی رجحانات میں استعمال کروانے کی روش کو روکا جاسکے۔کراچی میں مستقل امن کو مستحکم کرنے کے لئے کوئی ایسا سمجھوتہ نہ کیا جائے جس سے ملک کی معاشی شہ رگ کو دوبارہ نقصان پہنچے۔
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Gas
Previous Post صارفین کو گیس پریشر میں کمی کا سامنا
Next Post کشمیریوں کی نسل کشی آخر کب تک؟؟؟
Kashmiris

Related Posts

Gironde Wildfires Spark Surge in Volunteer Firefighter Applications

شعلوں کے درمیان جنم لینے والی نئی امید: جب جیروند کے جنگلات کی آگ نے رضاکار فائرفائٹر بننے کا جذبہ بیدار کیا

August 7, 2026
Fuel Prices Drop: SP95 Falls Below €2 Threshold in France

پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی، SP95 دوبارہ 2 یورو فی لیٹر سے نیچے

August 7, 2026
France’s 2026 Solar Eclipse: Where to See the Best View

27 سال بعد یورپ میں نایاب سورج گرہن: 12 اگست کو فرانس میں کہاں اور کب دیکھنا سب سے شاندار ہوگا؟

August 7, 2026
France's Unemployment Rate Hits 8.3%, Highest Since 2020

فرانس میںے روزگاری کی شرح 8.3 فیصد تک جا پہنچی، 2020 کے بعد بلند ترین سطح

August 7, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.