لندن: برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے پیر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے اور اپنی رخصتی کے لیے ٹائم ٹیبل دینے کی توقع ہے، یہ دعویٰ برطانیہ کے معروف اخبار ‘دی آبزرور’ نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ تاہم، ایک سرکاری ذریعے کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اس وقت بھی ملک چلانے کے اپنے فرائض پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
کیئر سٹارمر کی قیادت کو کئی مہینوں سے جس خطرے کا سامنا تھا، وہ جمعے کے روز اس وقت ڈرامائی طور پر بڑھ گیا جب ان کے حریف اینڈی برنہم نے پارلیمنٹ کی ایک نشست جیت لی، جس سے وہ باقاعدہ طور پر قیادت کا چیلنج پیش کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔
چیکرز کنٹری ہاؤس میں آخری مشاورت
دی آبزرور کی رپورٹ کے مطابق، سٹارمر اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنی سرکاری رہائش گاہ ‘چیکرز’ میں اس معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں اور جلد ہی کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیبر پارٹی کی سینئر شخصیات کو توقع ہے کہ پیر کے روز تک ان کے مستقبل کے بارے میں ایک واضح بیان سامنے آ سکتا ہے۔
دوسری جانب، ایک سرکاری ذریعے نے زور دے کر کہا کہ وزیراعظم اپنے کام پر مرکوز ہیں اور انہوں نے ماضی میں بھی ایسے ہی بیانات دیے ہیں۔ برطانوی رہنما نے جمعے کے روز کہا تھا کہہ اپنی قیادت کے خلاف کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کریں گے اور لیبر پارٹی پر زور دیا کہ وہ اندرونی لڑائی میں خود کو تباہ نہ کرے۔
مقبولیت میں زبردست کمی اور سیاسی دباؤ
کیئر سٹارمر 2024 میں سینٹر لیفٹ لیبر پارٹی کو شاندار انتخابی کامیابی دلا کر وزیراعظم بنے تھے، لیکن اب وہ کئی اسکینڈلز اور پالیسیوں سے مکر جانے کے واقعات کی وجہ سے شدید غیر مقبول ہو چکے ہیں۔ عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق ان کے معیار زندگی میں بہتری لانے میں ناکام رہے ہیں۔p>
اگر وہ مستعفی ہوتے ہیں یا انہیں ہٹایا جاتا ہے، تو برطانیہ کو صرف ایک دہائی میں اپنا ساتواں وزیراعظم ملے گا — جو تقریباً دو صدیوں میں سب سے زیادہ تبدیلی ہوگی۔ یہ صورتحال عوامی خدمات کو بہتر بنانے اور غیر قانونی امیگریشن جیسے مسائل سے نمٹنے میں پے در پے حکومتوں کی ناکامیوں پر عوام کے شدید غصے کی عکاسی کرتی ہے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی ایک گنتی کے مطابق، سٹارمر کی اپنی پارٹ کے 100 سے زائد منتخب ارکانِ پارلیمنٹ — جو ہاؤس آف کامنز میں لیبر کے تمام نمائندوں کا تقریباً ایک چوتھائی ہیں — نے عوامی طور پر کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیںہ سٹارمر مستعفی ہو جائیں اپنے جانے کا ٹائم ٹیبل طے کریں۔
دی آبزرور کی رپورٹ، جس میں ذرائع کے نام نہیں بتائے گئے، کے مطابق سٹارمر کابینہ کے وزراء، مشیروں، عطیہ دہندگان اور ٹریڈ یونین رہنماؤں سے بات کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کی پوزیشن اب مزید برقرار نہیں رہ سکتی۔
اینڈی برنہم اور ویس اسٹریٹنگ تیار
56 سالہ کیریئر سیاست دان اینڈی برنہم کو لیبر پارٹی میں بہت سے لوگ سٹارمر کے سب سے زیادہ ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھتے ہیں — چاہے وہ طے شدہ اقتدار کی منتقلی کے ذریعے ہو یا باضابطہ قیادت کے مقابلے کے ذریعے۔
شمالی انگلینڈ میں گریٹر مانچسٹر کے میئر کے طور پر لیبر کے اندر اپنا ایک مضبوط حلقہ اثر بنانے والے برنہم نے جمعے کے روز نائجل فاریج کی دائیں بازو کی عوامی تحریک سے خطرے کو آرام سے پسپا کرتے ہوئے ایک خالی پارلیمانی نشست کا انتخاب جیتا۔
برنہم نے فوری طور پر سٹارمر کو باقاعدہ چیلنج پیش نہیں کیا لیکن اپنی کامیابی کی تقریر میں ملک کے لیے ا نئی راہ کا وعدہ کیا۔ ان کے اتحادیوں نے سٹارمر پر زور دیا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو جائیں اور اقتدار سونپ دیں۔
سابق وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے بھی کہا ہے ک وہ سٹارمر کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہی۔
اخبار ‘دی ٹائمز’ نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ اگر برنہم وزیراعظم بنتے ہیں توہ وزیر خزانہ ریچل ریوز کو برطرف کر دیں گے، کیونکہ ان کے مشیروں نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہ تبدیلی کی کافی سمت پیش نہیں کرتیں۔ رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہں کر سکا۔
