پولیس کا بیان: ملزم سفید فام سکاٹش شہری ہے، عوام کو مزید کوئی خطرہ نہیں
لندن: سکاٹش حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ انہوں نے ایڈنبرا میں ہونے والے ان حملوں کے سلسلے میں ایک شخص پر فرد جرم عائد کر دی ہے جن میں پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ملزممسلم دشمن نفرت سے متحرک دکھائی دیتا ہے”۔ پولیس سکاٹ لینڈ کے مطابق، افسران نے ایک 36 سالہ سفید فام سکاٹش شخص کو گرفتار کیا تھا اور “عوام کو مزید کوئی خطرہ نہیں ہے”۔
پولیس نے ہفتے کی رات دیر گئے جاری کردہ بیان میں کہا، “ایک 36 سالہ شخص پر 19 جون 2026 بروز جمعہ ایڈنبرا میں پیش آنے والے متعدد واقعات کے سلسلے میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا، “پراسیکیوٹر فسکل کو رپورٹ پیش کر دی گئی ہے، اور ملزم کو مقررہ وقت پر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔”
واقعے کی تفصیلات: ننگے دھڑ شخص کا بڑے ہتھیار کے ساتھ گھومنا
آنائن پوسٹ کی گئی فوٹیج میں ایک ننگے دھ شخص کو دکھایا گیا، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہی ملزم ہے، سکاٹش دارالحکومت کی سڑکوں پر ایک بڑے ہتھیار کے ساتھ گھوم رہا تھا۔ پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ انہیں جمعہ کی رات دیر گئے متعدد ہنگامی کالیں موصول ہوئیں جن میں لوگوں نے “ایڈنبرا بھر میں پرتشدد حملوں، بشمول دھمکیوں، ڈکیتی اور توڑ پھوڑ کی اطلاع دی، جس میں پانچ افراد زخمی ہوئے”۔
پولیس کے مطابق، متاثرین میں دو کی عمر 22 سال، جبکہ دیگر کی عمریں 24، 27 اور 39 سال ہیں، اور انہیں مختلف نوعیت کی چوٹیں آئیں۔ بیان میں کہا گیا کہ تین افراد کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن ان کی چوٹیں جان لیوا نہیںھیں۔ اس واقعے کی انسداد دہشت گردی یونٹ اور دیگر پولیس افسران تحقیقات کر رہے ہیں۔
سیاسی ردعمل: “نفرت اور عدم برداشت کی کوئی جگہ نہیں”
لندن اور اسکاٹ لینڈ کے سیاستدانوں نے ان واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، “بالکل ہولناک۔ ملزم مسلم دشمن نفرت سے متحرک دکھائی دیتا ہے۔ میں اسے برداشت نہیں کروں گا – اسے قانون کی مکمل سزائی دی جائے گی۔” اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوئنی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ “شدید تشویش میں مبتلا” ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، “ہمارے ملک میں تشدد، نسل پرستی یا عدم برداشت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔”
2>مسلم تنظیموں کا مؤقف: انتہا پسندانہ دہشت گردی کا عمل
سکاٹش ایسوسی ایشن آف ماسک اور اسلاموفوبیا مخالف غیر منافع بخش تنظیم ‘مسلم انگیجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ’ (مینڈ) دونوں نے کہا کہ متاثرین میں سے کئی مسلمان تھے۔ مینڈ نے نوٹ کیا کہ زیر گردش گرفتار شخص کی مبینہ فوٹیج میں اسے مسلمانوں سے ملک کو “بچانے” کے بارے میں چیختے ہوئے اور نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ تنظیم نے پولیس پر زور دیا کہ وہ “اس کے ساتھ وہی سلوک کرے جس کے شواہد ظاہر کرتے ہیں: اسلامو فوبک، انتہائی دائیں بازو کی دہشت گردی”۔
مساجد کی ایسوسی ایشن نے خبردار کرتے ہوئے کہا: “حالیہ دنوں میں ہم نے آن لائن تارکین وطن مخالف مظاہروں کی کالیں گردش کرتے دیکھی ہیں، جن کے ساتھ اقلیتی برادریوں کے خلاف بڑھتی ہوئی جارحانہ بیان بازی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ ان پیشرفتوں سے ہر کسی کو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی عقیدے یا پس منظر سے ہو، تشویش میں مبتلا ہونا چاہیے۔”
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں پیش آنے والا واقعہ
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب برطانیہ میں امیگریشن اور تنوع پر بحث زوروں پر ہے، اور انتہائی دائیں بازو کے اشتعال انگیز عناصر پر نسل پرستانہ جذبات کو ہوا دینے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں خطے میں کئی ہائی پروفائل واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے شمالی آئرش دارالحکومت بیلفاسٹ میں ایک چاقو حملے کے بعد دو راتوں تک بدامنی پھیلی رہی، جس کے بارے میں الزام ہے کہ اسے ایک سوڈانی پناہ گزین نے انجام دیا اور اس کی ویڈیو آن لائن وائرل ہو گئی تھی۔
اسی طرح، گزشتہ ہفتے جنوبی انگلینڈ کے شہر ساؤتھمپٹن میں ایک برطانوی سکھ شخص کے ہاتھوں نوجوان سفید فام طالب علم ہنری نوواک کے قتل کے معاملے پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔
پولیس سکاٹ لینڈ نے جمعہ کی رات کے واقعات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر دو افراد مغربی ایڈنبرا کے ایک مضافاتی علاقے میں زخمی ہوئے اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ بی بی سی کے مطابق، حملے ایک مسجد کے قریب سے شروع ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تین دیگر افراد پر مختلف مقامات پر حملے کیے گئے، جنہیں مختلف چوٹیں آئیں، اور آخرکار افسران نے ملزم کا سامنا کر کے اسے گرفتار کر لیا۔
