لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے صوبہ پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو حکم دیا ہے کہ وہ افغان طلبہ کو نکال نہیں سکتے اور نہ ہی ان کے امتحانی پرچے منسوخ کر سکتے ہیں۔ یہ حکم ایسی درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا گیا جن میں میڈیکل اداروں سے افغان طلبہ کے اخراج کو چیلنج کیا گیا تھا۔
30 سے زائد افغان طلبہ کی درخواستیں
جسٹس خالد اسحاق نے جمعرات کے روز ان درخواستوں کی سماعت کی جن میں 30 سے زائد افغان طلبہ نے صوبے کے میڈیکل کالجز سے اپنے اخراج کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ سماعت کے دوران پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ متعدد افغان طلبہ کے پاس پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کے لیے مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں ہیں۔
وکیل نے دلیل دی کہ غیر ملکی شہری درست ویزا کے بغیر ملک میں نہیں رہ سکتے اور اس سلسلے میں دیگر ممالک کی امیگریشن شرائط کا حوالہ بھی دیا۔
عدالت کے سوالات
جسٹس خالد اسحاق نے استفسار کیا کہ ان طلبہ کو ابتدا میں تعلیمی ویزا کیسے جاری کیا گیا اور انہیں میڈیکل کالجز میں داخلہ کیسے دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کئی سال میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد طلبہ کو واپس بھیجنے کی منطق کیا ہے۔
جج نے رائے دی کہ متاثرہ طلبہ کے خلاف کارروائی سے قبل انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔
ریاستی سلامتی سے متعلق دلیل کو مسترد کرتے ہوئے جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیے کہ طلبہ کو ان کی میڈیکل تعلیم مکمل ہونے کے بعد واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
عدالتی حکم
عدالت نے بعد ازاں حکم دیا کہ پنجاب کا کوئی بھی میڈیکل کالج درخواست گزاروں کو نہیں نکال سکتا اور نہ ہی ان کے امتحانی پرچے منسوخ کر سکتا ہے۔ سماعت اگلے جمعے تک ملتوی کر دی گئی۔
یہ سماعت ایسے موقع پر ہوئی جب ایک روز قبل پی ایم ڈی سی نے واضح کیا تھا کہ پاکستانی ضوابط میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ پر قومیت کی بنیاد پر پابندی عائد نہیں ہے۔
پی ایم ڈی سی کا موقف
کونسل کے مطابق افغان میڈیکل طلبہ کا جائزہ ریگولیٹری تعمیل اور دستاویزات پر مرکوز ہے اور یہ کسی خاص قومیت کے خلاف نہیں ہے۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق اس وقت 200 سے زائد افغان طلبہ پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ صرف 22 کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ رجسٹرڈ طلبہ میں سے 14 نے ڈگری پروگرام مکمل کر لیے ہیں جبکہ آٹھ کے اگلے سال گریجویٹ ہونے کی توقع ہے۔
کونسل نے واضح کیا کہ محض میڈیکل کی ڈگری حاصل کر لینا کسی غیر ملکی شہری کو پاکستان میں ملازمت یا طبی پریکٹس کے لیے رکنے کا حق نہیں دیتا۔ ملک میں طب کی پریکٹس کے خواہشمند طلبہ کو لاگو لائسنسنگ اور رجسٹریشن کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق باقی 176 طلبہ کی تصدیق کا عمل ابھی جاری ہے اور یہ تعداد مکمل ہونے کے بعد تبدیل ہو سکتی ہے۔
کونسل نے مزید کہا کہ وہ غیر ملکی طلبہ جن کے پاس پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور قابل اطلاق قواعد کے تحت مطلوبہ اجازت نامے موجود نہیں، انہیں پاکستان کے ریگولیٹڈ میڈیکل ایجوکیشن سسٹم میں قانونی طور پر داخل سمجھا نہیں جا سکتا۔ کونسل کے مطابق اس کے اقدامات سرکاری ریکارڈ، متعلقہ ضوابط اور مجاز اتھارٹیز کی ہدایات کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔
