امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد پر قابو پانے کے اہم معاہدے ’نیو اسٹارٹ‘ کی میعاد آج ختم ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک ’سنگین لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کو فوری طور پر نئے معاہدے پر بات چیت شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔
’ایک خطرناک وقت میں پچھلے تمام معاہدوں کا خاتمہ‘
گوتریس نے کہا کہ ’’یہ دہائیوں کی کامیابیوں کا خاتمہ اس سے بدتر وقت پر نہیں ہو سکتا تھا۔ جوہری ہتھیار کے استعمال کا خطرہ گزشتہ کئی دہائیوں میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔‘‘ انہوں نے واشنگٹن اور ماسکو پر زور دیا کہ وہ ’’بلا تاخیر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور ایک نیا فریم ورک طے کریں۔‘‘
پہلی بار آدھی صدی میں بغیر کسی پابندی کے عالم
نیو اسٹارٹ معاہدہ، جو 2010 میں طے پایا تھا، دونوں ممالک کے جوہری ہتھیاروں کے نظاموں اور سرجیکل وار ہیڈز کی تعداد پر پابندیاں عائد کرتا تھا۔ اس کے خاتمے کے ساتھ ہی، پہلی بار 1960 کی دہائی کے بعد ایسا وقت آیا ہے جب دنیا کی دو سب سے بڑی جوہری طاقتوں کے اسٹریٹجک جوہری ذخائر پر کوئی پابند کنٹرول نہیں رہا۔
گوتریس نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’پہلی بار آدھی صدی سے زیادہ عرصے میں، ہم ایک ایسی دنیا کا سامنا کر رہے ہیں جہاں روسی فیڈریشن اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اسٹریٹجک جوہری ذخائر پر کوئی پابند حدود نہیں ہیں۔‘‘
جنگِ سرد کے بعد کے معاہدوں کا سلسلہ ٹوٹا
یہ معاہدہ دراصل جنگِ سرد کے بعد کے جوہری کنٹرول کے ڈھانچے کا آخری بچا ہوا ستون تھا۔ اس سے قبل، امریکہ نے 2019 میں انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز (آئی این ایف) معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ دونوں ممالک کے پاس دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ جوہری وار ہیڈز ہیں۔
نیو اسٹارٹ معاہدے کی توثیقی جانچ پڑتال کا عمل 2023 میں، روس کی یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے خاتمے سے ایک غیر یقینی اور کم کنٹرول والے جوہری دور کا آغاز ہو سکتا ہے، جس میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا خطرہ موجود ہے۔

