اسٹاک ہوم: رواں سال کا نوبل انعام برائے طب و فعلیات امریکی محقق کارل ڈیسرتھ اور جرمن سائنس دانوں پیٹر ہیگیمن اور جارج ناگل کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان محققین کو یہ اعزاز روشنی سے متحرک ہونے والے آئن چینلز اور آپٹوجنیٹکس کے شعبے میں ان کی بنیاد پرست دریافتوں پر دیا گیا ہے۔
سویڈن کے ادارے کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ نے پیر کے روز یہ اعلان کیا۔ نوبل کمیٹی کے مطابق، ان سائنس دانوں کی تحقیق نے “نیورو سائنس میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھی ہے۔”
آپٹوجنیٹکس کیا ہے اور یہ کس طرح کام کرتا ہے؟
آپٹوجنیٹکس ایک ایسی تکنیک ہے جس کے ذریعے روشنی کی مدد سے دماغ کے مخصوص نیورونز یا عصبی خلیات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ نوبل کمیٹی کے مطابق، یہ طریقہ “یہ ظاہر کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے کہ زندہ دماغ میں عصبی خلیات کس طرح یادیں، جذبات اور رویے تشکیل دیتے ہیں۔”
دریافت کا سفر: ایک خلیاتی الجی سے دماغ تک
جرمن سائنس دانوں پیٹر ہیگیمن اور جارج ناگل نے ایک یک خلوی الجی میں “چینلروڈوپسن” نامی ایک پروٹین دریافت کیا تھا۔ بعد ازاں، امریکی محقق کارل ڈیسرتھ نے اس پروٹین کو عصبی خلیات کے لیے روشنی سے کنٹرول ہونے والے ایک سوئچ میں تبدیل کر دیا۔
- پیٹر ہیگیمن اور جارج ناگل نے یک خلوی الجی میں روشنی سے حساس پروٹین “چینلروڈوپسن” دریافت کیا۔
- کارل ڈیسرتھ نے اس پروٹین کو عصبی خلیات کے لیے روشنی سے چلنے والے سوئچ میں بدلا۔
- اس تکنیک کے ذریعے زندہ دماغ کے اندر نیورونز کی سرگرمی کو باریک بینی سے جانچا جا سکتا ہے۔
نیورو سائنس میں انقلاب
نوبل کمیٹی برائے فعلیات و طب کے چیئرمین پیر سویننگسن نے اس موقع پر کہا کہ “آپٹوجنیٹکس ہمیں دماغ کی نقشہ کشی کی ایسی صلاحیت فراہم کرتا ہے جس کا ہم پہلے صرف خواب دیکھ سکتے تھے۔”
یہ اعزاز اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے دماغی امراض کے علاج اور انسانی شعور و یادداشت کے عمل کو سمجھنے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، آپٹوجنیٹکس مستقبل میں الزائمر، پارکنسنز اور ذہنی صحت سے متعلق دیگر مسائل کے علاج میں انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔
