اقوام متحدہ: مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی نے پیر کے روز امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ جدید مصنوعی ذہانت کے عالمی تکنیکی معیارات کی تیاری کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی قیادت کرے، جن میں ایسے نظام بھی شامل ہیں جو خود اپنی صلاحیتوں میں خودکار طور پر اضافہ کر سکتے ہیں۔
یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مصنوعی ذہانت ایک اہم موضوعِ بحث ہو گا۔ اس سے قبل کئی صنعتی رہنماؤں، جن میں اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین بھی شامل ہیں، نے اس تیزی سے طاقتور ہوتی ٹیکنالوجی کی ترقی میں مربوط سست روی کی ضرورت پر زور دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ یہ جلد ہی خود اپنی بہتری کرنے لگے گی اور انسانی کنٹرول سے باہر نکل سکتی ہے۔
عالمی معیارات کی ضرورت
اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں کے اجتماع کے موقع پر شائع ہونے والی اوپن اے آئی کی بلاگ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر جدید معیارات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک طریقہ کار تیار کرنا ناگزیر ہے، جس کے ساتھ مشترکہ پیمائش اور واقعات کی رپورٹنگ کے پروٹوکول بھی شامل ہوں تاکہ اجتماعی کارروائی کو بہتر بنایا جا سکے۔
بلاگ پوسٹ کے مطابق، اگر امریکہ اب قیادت کرے گا تو یہ طے ہو گا کہ وہ عالمی مصنوعی ذہانت کے فریم ورک کی تشکیل کرے گا یا پھر اپنے گرد ایک بکھرے، غیر متوازن اور تنازعات سے بھرے نظام کو قائم ہوتے دیکھے گا۔ اس سے یہ بھی طے ہو گا کہ جدید مصنوعی ذہانت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے موجودہ نیٹ ورکس کو مضبوط کرے گی یا نہیں؛ قیادت میں ناکامی انہیں کمزور کر سکتی ہے۔
خود مختار بہتری کا خدشہ
اوپن اے آئی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں رفتار کو کنٹرول کرنے کا مطلب کسی مقررہ رفتار کو برقرار رکھنا نہیں ہے، بلکہ تکنیکی طور پر اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہم آہنگی سے متعلق تحقیق اور اس تحقیق کی تعیناتی صلاحیتوں سے ہمیشہ آگے رہے۔ ہم آہنگی سے مراد یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی اقدار کے مطابق کام کرے۔
مصنوعی ذہانت کے مستقبل میں انسانوں کو نقصان پہنچانے کے خدشات کے پیش نظر صنعت میں جان بوجھ کر ترقی کو سست کرنے یا رفتار کو کنٹرول کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
سلامتی کونسل کا اجلاس
سیم آلٹ مین بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 ارکان کو مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی سلامتی کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔ یہ اجلاس فرانس نے بلایا ہے، جو اس ماہ کونسل کا صدر ہے، اور اس کی صدارت فرانس کے وزیر برائے یورپ و امورِ خارجہ جین نوئل بیرو کریں گے۔
بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کی ذمہ دار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مصنوعی ذہانت کے خطرات پر پہلی بار 2023 میں اجلاس کیا تھا، جب چین نے کہا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کو بے لگام گھوڑا نہیں بننے دینا چاہیے، جبکہ امریکہ نے لوگوں کو سنسر کرنے یا دبانے کے لیے اس کے استعمال کے خلاف خبردار کیا تھا۔
امریکہ اور چین کے مؤقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو سست کرنے کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ کسی بھی وقفے سے چین کو اس ٹیکنالوجی میں فرق کم کرنے کا موقع مل جائے گا، جسے واشنگٹن قومی اور معاشی سلامتی کے لیے مرکزی حیثیت کا حامل سمجھتا ہے۔
ٹرمپ نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ امریکہ کے پاس پہلے سے ہی مصنوعی ذہانت کی ترقی کو منظم کرنے کے لیے حفاظتی پہرے موجود ہیں، اور یہ کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی پر شکوک و شبہات کا فائدہ چین کو ہو گا۔ ٹرمپ اس ہفتے واشنگٹن میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
