اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے قومی کم سے کم لاگت کے معیار سے زائد قیمت پر بجلی خریدنے پر فوری پابندی عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر توانائی نے سٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے مجاز نرخوں سے زیادہ ٹیرف پر چھوٹے اور کیپٹو پاور پلانٹس سے بجلی خریدنے کے الزامات پر انکوائری کا بھی حکم دیا ہے۔
غیر معاشی بنیادوں پر بجلی کی خریداری سے صارفین پر بوجھ
ذرائع کے مطابق وزیر توانائی نے یہ احکامات ایک جائزے کے بعد جاری کیے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈسکوز چھوٹے پاور پروڈیوسرز (ایس پی پیز) اور کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پیز) سے مقررہ اقتصادی میرٹ آرڈر سے ہٹ کر بجلی خرید رہی ہیں، جس سے صارفین کے بلوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
نیپرا قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی
وزیر توانائی نے تمام ڈسکوز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس عمل کو بند کریں اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگٹری اتھارٹی (نیپرا) کے طے کردہ قوانین، بشمول گرڈ اور ڈسٹری بیوشن کوڈز کے مطابق تمام خریداری کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس حوالے سے باضابطہ انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آئی ایس ایم او کے ساتھ کوآرڈینیشن لازمی
وزیر توانائی نے ڈسکوز کو ہدایت کی کہ وہ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) کے ساتھ کوآرڈینیشن کرتے ہوئے ایس پی پیز اور سی پی پیز کو صرف اکنامک میرٹ آرڈر (EMO) کے اصولوں کے تحت مربوط کریں، جس کے تحت سب سے کم قیمت والی بجلی کو ترجیح دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کی اضافی ہدایات
اس سلسلے میں پاور ڈویژن نے ایک فالو اپ ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایس ایم او کی واضح پیشگی منظوری کے بغیر ایس پی پیز سے کوئی بھی آف میرٹ بجلی خریدنا ممنوع ہوگا۔ ڈویژن نے واضح کیا کہ بجلی کی خریداری صرف انہی صورتوں میں محدود رہے گی جو موجودہ قومی میرٹ آرڈر کے تحت آتی ہوں، جس کا تعین مقررہ لاگت پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
