واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ طور پر جمعہ کے روز ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کا اشارہ دیا ہے۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے متن کے ذریعے کہا کہ یہ ممکن ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان میں ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات کا دوسرا دور اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں اسلام آباد میں متوقع ہے۔
جنگ بندی میں توسیع کا اعلان
صدر ٹرمپ نے منگل کو ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا، جو کہ ختم ہونے والی تھی۔ تاہم، اس معاملے سے آگاہ ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ نے جنگ بندی کی توسیع کے لیے کوئی حتمی ٹائم لائن مقرر نہیں کی ہے۔ پاکستان میں ایک ڈیجیٹل نیوز آؤٹ لیٹ نے مذاکرات کے لیے تین دن کی مدت کا ذکر کیا، لیکن اس حوالے سے کوئی سرکاری ذریعہ یا تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
آبنائے ہرمز کا تنازعہ
امن مذاکرات کے دوسرے دور پر غیر یینی کی فضا برقرار ہے، کیونکہ واشنگٹن اور تہران کئی معاملات پر متفق نہیں ہو سکے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے۔ ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کے لیے بند کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ، تہران نے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر بھی حملے کیے تھے۔
لڑائی 8 اپریل کو اس وقت ختم ہوئی جب وزیر اعظم شہباز شریف نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا اور دونوں فریقوں کو اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی۔ تاہم، یہ مذاکرات مستقل امن معاہدے پر ختم نہیں ہو سکے۔ اسلام آباد نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے اور جنگ بندی میں توسیع کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہیں۔
ٹرمپ کا مطالبہ: ایران متحدہ تجویز پیش کرے
منگل کی رات دیر گئے، صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ پاکستان کی درخواست پر ایران پر حملے روک رہے ہیں تاکہ ایرانی رہنما ایک متحدہ تجویز پیش کر سکیں۔ تاہم، ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی بحریہ ایران کی سمندری تجارت کی ناکہ بندی جاری رکھے گی، جسے تہران جنگ کی کارروائی سمجھتا ہے۔
ایران کا موقف: پہلے ناکہ بندی ختم ہو
واشنگٹن نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اپنے وفد کا اعلان کر دیا ہے، لیکن تہران کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا جب تک امریکہ اس کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔ ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے الجزیرہ کو بتایا کہ جیسے ہی ناکہ بندی ختم ہوگی، مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں شروع ہو جائے گا۔
پاکستان کی کوششیں جاری
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہے اور سفارت کاری اور مذاکرات کی راہ پر گامزن ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کے لیے ایرانی وفد کی تصدیق کا انتظار کر رہا ہے۔
ایران کا پاکستان کی کوششوں کا اعتراف
ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کرتا ہے۔ تاہم، انہوں نے امریکہ کی طرف سے اعلان کردہ جنگ بندی میں توسیع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بقائی نے زور دیا کہ تران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے۔
