اسلام آباد: وفاقی حکومت کے مالیاتی نظم و نسق پر سنگین سوالات اٹھتے ہوئے آڈٹ رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال 2024-25 کے دوران 3,177 ارب روپے کی خطیر رقم پارلیمانی منظوری کے بغیر خرچ کر دی گئی۔ یہ رقم حکومت کی جانب سے حاصل کردہ 3,454 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس کا 92 فیصد بنتی ہے، جسے آئینی اور پارلیمانی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
2>بجٹ سازی کے عمل پر سوالیہ نشان
دی نیوز کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق، 1,833 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس قرض کی اصل رقم کی ادائیگی کے لیے حقیقی ضرورت کے بغیر حاصل کی گئیں، جس کے نتیجے میں غیر ضروری اخراجات ہوئے۔ ایک اور سنگین انکشاف یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے منظور شدہ حتمی گرانٹ سے زائد اخراجات 187 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
مزید برآں، وفاقی اداروں نے بغیر کسی مناسب ضرورت کے تخمینے کے 3,809 ارب روپے کی بجٹری مختص طلب کیں۔ اس کے باوجود، 115 لاگت مراکز 87 ارب روپے کی خطیر رقم استعمال کرنے میں ناکام رہے، جبکہ 41 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس بھی غیر خرچ رہیں۔
آئینی خلاف ورزیاں اور غبن کے مقدمات
آڈیٹر جنرل نے آئین کے آرٹیکل 78 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 7 ارب روپے کی وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے پبلک اکاؤنٹ میں بے قاعدہ منتقلی کا بھی انکشاف کیا۔ اس کے علاوہ، غیر فعال اکاؤنٹس میں پڑی 24 ارب روپے کی غیر دعویدار رقم کو سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔
رپورٹ میں عوامی رقم کے غبن اور جعلی ادائیگیوں کے دو واقعات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ انکشافات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ سنگین غبن کے مقدمات کو مزید کارروائی کے لیے تحقیقاتی اداروں کو بھجوایا جائے۔
کمزور داخلی کنٹرول اور نگرانی کا فقدان
آڈٹ رپورٹس میں حکومتی اکاؤنٹنگ اور رپورٹنگ سسٹم کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں قرضوں اور نقصانات کی رپورٹ تیار نہ کرنا، مقررہ اثاثوں اور واجبات کے رجسٹر کی عدم دیکھ بھال، اور جنرل پروویڈنٹ فنڈ کے انفرادی کھاتوں میں رقوم جمع نہ کرانا شامل ہیں۔تشویشناک پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر وفاقی اداروں کے پاس فعال داخلی آڈٹ یونٹس موجود نہیں ہیں، اور کئی اداروں میں چیف انٹرنل آڈیٹرز بھی تعینات نہیں کیے گئے۔ آڈٹ کے مطابق، موثر داخلی نگرانی کے فقدان نے اندرونی کنٹرول کی ناکامیوں، بے قاعدگیوں اور عوامی فنڈز کے نقصانات میں اہم کردار ادا کیا۔
شفافیت اور احتساب پر بحث کا نیا دور
انکشاف کردہ 82 کیسز میں آڈیٹرز نے ریکوری کا عندیہ دیا، جبکہ 78 مقدمات کمزور داخلی کنٹرولز کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ تمام نتائج مالیاتی نظم و ضبط، پارلیمانی نگرانی، عوامی اخراجات میں شفافیت اور وفاقی حکومت کے اندر احتسابی نظام کی تاثیر پر نئے سرے سے بحث چھیڑنے کا باعث بنیں گے۔
