اسلام آباد اور تہران نے سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور سائبر سکیورٹی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کر لیا
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ کو اپنے ایرانی ہم منصب ڈاکٹر اسکندر مومنی سے ملاقات کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے پاک ایران تعلقات اور حالیہ امن معاہدے کے بعد علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
محسن نقوی نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں طے پانے والے مشترکہ اعلامیے پر ڈاکٹر مومنی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایرانی حکومت اور اس کی مذاکراتی ٹیم کی مخلصانہ کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، “پاکستان ہمیشہ سے دنیا بھر میں امن اور استحکام کا حامی رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس امن معاہدے کے پورے خطے کے لیے دور رس اور مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔”
ایرانی وزیر داخلہ نے صدر مسعود پزشکیان اور ان کے وفد کے دورہ پاکستان کے دوران پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر مومنی اس اعلیٰ سطحی وفد کا حصہ تھے جو امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے خاتمے کے لیے ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ پر دستخط کے ایک روز بعد پاکستان پہنچا تھا۔
انہوں نے ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے مخلصانہ کردار کی تعریف کی اور اس پورے عمل کے دوران پاکستانی قوم کی بھرپور حمایت کو سراہا۔ دونوں وزراء نے خطے میں کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور سکیورٹی، انسداد دہشت گردی، سائبر سکیورٹی اور امیگریشن سمیت متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ڈاکٹر مومنی نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی پاکستان کا تفصیلی دورہ کریں گے جس کا مقصد دونوں ممالک کی وزارتوں داخلہ کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہوگا۔ اس ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی اور ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے بھی شریک تھے۔
علاقائی امن کے لیے مشترکہ عزم
یہ اعلیٰ سطحی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پاکستان نے ثالثی اور سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ایرانی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ پاکستان کا کردار مخلصانہ تھا، اسلام آباد کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔
دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ سکیورٹی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس میں انسداد دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکانزم پر کام کرنا شامل ہے۔ اس سے قبل پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے ایرانی صدر کے استقبال کے لیے فضائی سلامی پیش کی تھی، جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کا مظہر ہے۔
