رانا ثنااللہ کا سینیٹ میں اہم بیان
بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں کے تازہ واقعات کے بعد حکمران جماعت کے اراکین پارلیمنٹ نے دہشت گردوں کی واضح مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کا تعلق محرومی یا حقوق کے مسائل سے نہیں ہے۔
کسی قسم کی شرائط کے بغیر دہشت گردوں کو دہشت گرد کہا جائے
سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردوں کو کسی قسم کی “اگر اور لیکن” کے بغیر دہشت گرد کہا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ بلوچستان میں کوئی احساس محرومی موجود نہیں ہے۔
حکومتی اختیار کے فقدان کے تاثر کی تردید
مشیر سیاسیات نے صوبے میں حکومتی اختیار کے فقدان کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجرمانہ سرگرمیاں کہیں بھی چند گروہوں کے مل کر کام کرنے سے انجام پا سکتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ محفوظ علاقوں میں بھی ایسے گروہ کبھی کبھار لوگوں کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔
بلوچستان میں مجرمانہ کارروائیوں کی تفصیل
ثنااللہ نے بتایا کہ بلوچستان میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر بسوں کو روکتے ہیں اور مسافروں کو اترنے پر مجبور کرتے ہیں۔ انہوں نے جعفر ایکسپریس جیسے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “یہ دوسرے صوبوں کے لوگوں کو ان کے اہل خانہ کے سامنے قتل کرتے ہیں اور پھر چھپ جاتے ہیں۔” انہوں نے سوال کیا، “یہ کس قسم کی شکایت ہے کہ آپ بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں؟”
حکومتی موقف میں کوئی نرمی نہیں
حکومتی ترجمان کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت دہشت گردوں سے مذاکرات کے کسی بھی امکان کو مسترد کرتی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیاں محض مجرمانہ نوعیت کی ہیں اور ان کا تعلق کسی سیاسی یا معاشی محرومی سے نہیں ہے۔
امن و امان کی صورتحال
حالیہ ہفتوں میں بلوچستان میں دہشت گردانہ واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر آپریشنز کا آغاز کیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور کسی قسم کے مذاکرات کی گنجائش نہیں ہے۔

