تہران: ایران اور اس کے خطے میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ مقبول احتجاجی تحریک کو کچلنے کے بعد ایرانی حکومت نے دباؤ بڑھانا جاری رکھا ہے۔ اتوار یکم فروری کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس تحریک کو ’بغاوت‘ قرار دیتے ہوئے امریکہ کو علاقائی جنگ سے خبردار کیا۔
احتجاج پر سخت کارروائی، ہزاروں ہلاکتیں
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق دسمبر کے آخر سے اب تک کم از کم 6,713 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 137 بچے بھی شامل ہیں۔ تنظیم مزید 17,000 ممکنہ اموات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ایرانی-جرمن ڈاکٹر امیر مبارز پراستا کے اندازے کے مطابق یہ تعداد 30,000 سے تجاوز کر سکتی ہے۔
خامنہ ای نے کہا، “احتجاجیوں نے پولیس، سرکاری عمارتوں، انقلابی گارڈز کے کیمپوں، بینکوں، مساجد پر حملے کیے اور قرآن مجید کو نذر آتش کیا… یہ ایک حقیقی بغاوت تھی۔” انہوں نے تسنیم نیوز ایجنسی کے ذریعے یہ بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کوشش “ناکام” ہو گئی ہے۔
امریکہ کو علاقائی جنگ کا انتباہ
سپریم لیڈر نے واشنگٹن کی فوجی مداخلت کی دھمکیوں کے جواب میں واضح انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے کہا، “امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر انہوں نے جنگ چھیڑی تو اس بار یہ ایک علاقائی جنگ ہوگی۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے خلیج میں ایک درجن سے زیادہ جنگی جہاز تعینات کیے ہیں، جن میں ابراہم لنکن ایئرکرافٹ کیریئر بھی شامل ہے۔ جواباً ایرانی فوجیں “اعلیٰ ترین الرٹ” پر ہیں اور انقلابی گارڈز نے دو روزہ “حقیقی فائرنگ کے بحری مشقوں” کا اعلان کیا ہے۔
مذاکرات کی راہ ہموار، یورپی یونین کا فیصلہ
تاہم دونوں اطراف سے کشیدگی میں کمی کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جنگ نہ ایران کے مفاد میں ہے نہ امریکہ کے، اور انہوں نے سفارت کاری کو ترجیح دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے واشنگٹن کے ساتھ “مذاکرات” میں “ترقی” کی بات کی ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین نے انقلابی گارڈز کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو احتجاجی تحریک کی سرکوبی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ نے یورپی فوجوں کو “دہشت گرد گروپ” قرار دے دیا ہے، جسے علامتی اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
آزادی اور سلامتی کے مطالبے
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ تہران کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں “بڑی رعایتوں” پر آمادہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “ایران کو اپنے خطے کے لیے خطرہ بننا بند کرنا چاہیے۔ ایرانی عوام کو اپنی آزادی واپس ملنی چاہیے۔ حکومت کو ظلم بند کرنا، قیدیوں کو رہا کرنا، پھانسیوں کو روکنا اور انٹرنیٹ بحال کرنا چاہیے۔”
صورت حال انتہائی نازک ہے جہاں ایک طرف فوجی کشیدگی عروج پر ہے، وہیں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ آنے والے دنوں میں خطے کی سلامتی کے لیے ان ہی کوششوں کا نتیجہ فیصلہ کن ثابت ہوگا۔

