نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی اور پاک ایران دوستی کے حوالے سے ان کے عزم کو انتہائی اہم قرار دیا۔
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں اپنے عزیز بھائی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات باعث مسرت رہی۔
اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے مخلصانہ اور تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے اور دیرینہ روابط کا اعادہ کیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا۔
علاقائی صورتحال پر اہم تبادلہ خیال
وزیراعظم نے بتایا کہ ملاقات میں ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر بھی اہم تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے طویل تنازعے پر پاکستان کی گہری تشویش کا اعادہ کیا اور ضبط، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارت کاری کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
اس ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق دار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔
امریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی کوششیں
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
پزشکیان کا امریکہ سے معاہدے کی خواہش کا اظہار
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو کہا کہ تہران نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمت کو بحال کرنا چاہتا ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ معاملہ وسط مدتی انتخابات تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل مفاہمت کی یادداشت پر واپس آئیں۔
واضح رہے کہ جون میں دستخط کی گئی مفاہمت کی یادداشت میں عارضی جنگ بندی کا خاکہ پیش کیا گیا تھا جو بعد میں ناکام ہو گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ تہران انتخابات کے بعد تک معاہدے میں تاخیر کر رہا ہے۔
اسی گفتگو میں پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے تیار ہے اور انہوں نے اس الزام کی تردید کی کہ ان کی حکومت ٹرمپ یا ان کے اہل خانہ کو قتل کرنا چاہتی ہے۔
اسحاق دار اور عراقچی کی ملاقات
اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق دار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اسحاق دار نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں بات چیت، سفارت کاری اور مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقوں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یہ ملاقاتیں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران تہران کے ساتھ اسلام آباد کی مسلسل سفارتی مصروفیت اور بات چیت اور استحکام کے فروغ کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہیں۔
