لاور/پشاور/راولپنڈی: پاکستان کے مختلف علاقوں میں مون سون کی شدید بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور تین لاپتہ ہو گئے۔ سیلابی ریلوں نے متعدد مکانات، اسکولوں، سڑکوں اور عوامی املاک کو شدید نقصان پہنچای ہے۔
خیبر میں سیلاب: دو گاڑیاں بہہ گئیں، تین افراد لاپتہ
ضلع خیبر میں شدید بارش کے بعد آنے والے سیلابی ریلے میں دو گاڑیاں بہہ گئیں۔ پولیس کے مطابق گاڑیوں میں سوار خواتین اور بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم تین افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ علاقے خوگہ خیل میں مسجد زکریا کے قریب بھی ایک کار سیلابی پانی میں پھنس گئی، لیکن تمام مکینوں کو محفوظ طریقے سے بچا لیا گیا۔
دریاؤں میں طغیانی اور کٹاؤ کا سلسلہ جاری
حافظ آباد میں ہیڈ قادرآباد کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں پانی کی آمد 138,000 کیوسک اور اخراج 115,000 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث نچلی سطح کا سیلاب آگیا ہے۔
دریں اثنا، لہہ کے علاقے سمراں شیب میں دریائے سندھ کے طاقتور بہاؤ نے دو سرکاری اسکولوں کو بہا دیا۔ دریا کے کٹاؤ سے سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی، تقریباً 300 مکانات، پانچ سے زائد بستیاں، تین مساجد، بجلی کے کھمبے اور دیگر عوامی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
پل تباہ، وادیوں میں بادل پھٹنے سے تباہی
حسن ابدال کے قریب کمیونٹی کی مالی معاونت سے بننے والا کوہلیہ پل مسلسل دوسرے سال شدید بارشوں کی نذر ہو گیا، جس سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے متعدد سرحدی گاؤں کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہو گیا اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔
وادی نیلم میں بادل پھٹنے سے ندی نالے طغیانی پر آ گئے، جس سے مکانات اور دکانیں زیر آب آ گئیں۔ مینگل نالہ کے قریب متعدد گاڑیاں، موٹرسائیکلیں اور مویشی بہہ گئے، جبکہ نیلم ہائی وے پر ٹریفک بھی معطل ہو گئی۔ مانسہرہ کے علاقے جبوری میں بادل پھٹنے سے متعدد ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا اچانک سیلابی ریلوں نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے۔
سیاحتی مقامات پر الرٹ اور نگر میں المیہ
محکمہ موسمیات نے سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ وادی کاغان، وادی سرن اور دیگر حساس علاقوں میں دریائے کنہار اور دیگر آبی گزرگاہوں سے دور رہیں، کیونکہ سیلاب کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ مری اور گلیات میں ہونے والی بارشوں کے باعث درجہ حرارت میںاں کمی واقع ہوئی ہے۔
ضلع نگر کے علاقے چلت کے بڈا لاس میں ایک افسوسناک واقعے میں لینڈ سلائیڈنگ سے چار مزدور ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ امدادی حکام کے مطابق مزدور کام کے بعد گھر واپس آرہے تھے کہ ملبے تلے دب گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں لہہ سے تعلق رکھنے والے شفقت، چلت کے فدا حسین جبکہ دیگر دو کا تعلق کوہستان سے تھا۔ لاشوں کو تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
