نیویارک: اسپین کی جانب سے ارجنٹائن کو 1-0 سے شکست دے کر ورلڈ کپ جیتنے کے بعد میٹ لائف اسٹیڈیم میں ایک عجیب و غریب منظر دیکھنے کو ملا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو فاتح ٹیم کے ساتھ تصویر کا حصہ بننے پر تلے ہوئے تھے، اس وقت مشکلات کا شکار ہو گئے جب فیفا کے صدر جیانی انفنٹینو انہیں پوڈیم سے نیچے اتارنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔
شائقین کی سیٹیوں میں گھرے ٹرمپ
19 جولائی کو نیویارک کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل کے بعد ٹرافی پیش کرنے کے لیے جب صدر ٹرمپ میدان میں داخل ہوئے تو شائقین نے ان کا زوردار استقبال کیا، مگر یہ استقبال تالیاں نہیں بلکہ سیٹیوں اور ہوٹنگ کی صورت میں تھا۔ اس کے باوجود، ٹرمپ نے پوڈیم پر مسکراتے ہوئے ہسپانوی کھلاڑیوں کو مبارکباد دی۔
کیپٹن روڈری کو ٹرافی دینے کے بعد رقص
انفنٹینو کے ساتھ مل کر اسپین کے کپتان روڈری کو ورلڈ کپ ٹرافی سونپنے کے بعد، صدر ٹرمپ نے اپنا مخصوص رقص پیش کیا۔ لیکن اصل پریشانی اس وقت شروع ہوئی جب عالمی چیمپئنز ٹرافی اٹھا کر جشن منا رہے تھے اور ٹرمپ تصویر کے لیے پوڈیم پر جمے رہے۔ اس دوران فیفا کے صدر انہیں وہاں سے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے دکھائی دیے۔
تناؤ کے باوجود رہنماؤں کی موجودگی
اس میچ میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے باوجود، میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی بھی موجود تھے۔ تینوں رہنما انفرادی ایوارڈز اور میڈلز کی تقریب کے لیے پوڈیم پر شریک ہوئے، جبکہ ان کی آخری ملاقات دسمبر میں ورلڈ کپ ڈرا کی تقریب میں ہوئی تھی۔ٹرمپ کا میسی پر تبصرہ
کھیل شروع ہونے سے قبل صدر ٹرمپ نے پیشگوئی کی تھی کہ لیونل میسی ارجنٹائن کو برتری دلائیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ انہوں نے ارجنٹائن کے صدر جیویئر میلی کو دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں مدد نہ ملنے کے باوجود ان کے درمیان کوئی کشیدگی نہیں ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ کی پوڈیم پر موجودگی نے توجہ کھینچی ہو۔ 2025 میں اسی اسٹیڈیم میں کلب ورلڈ کپ کی ٹرافی چیلسی کے حوالے کرنے کے بعد بھی وہ کھلاڑیوں کے رقص کے دوران اسٹیج پر موجود رہ کر سب کو حیران کر چکے ہیں۔
