تفصیلی رپورٹ میں 16 ویڈیوز کا فریم بائی فریم تجزیہ
پنجاب فورینسک سائنس لیبارٹری نے 9 مئی 2023 کے واقعات کے حوالے سے جاری کردہ ایک سرکاری رپورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔
پشاور پولیس کی درخواست پر تحقیقات
رپورٹ کے مطابق، فورینسک لیبارٹری نے پشاور پولیس کی درخواست پر 9 مئی کے تشدد سے متعلق ویڈیوز کا آڈیو ویژوئل تجزیہ کیا۔ تحقیقات میں ایک یو ایس بی ڈیوائس پر موجود 16 ویڈیوز کا فریم بائی فریم معائنہ کیا گیا۔
ویڈیوز میں ترمیم کے شواہد نہیں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر ویڈیوز میں ترمیم کے کوئی شواہد نہیں ملے، البتہ چند کلپس میں افراد یا متن کے اضافے کی نشاندہی ہوئی۔ تجزیہ مکمل طور پر بصری مواد تک محدود رہا۔
کون سے رہنما ویڈیوز میں نظر آئے؟
- وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے پروفائل فوٹو اور ویڈیو فوٹیج میں موجود فرد میں مماثلت پائی گئی۔
- پی ٹی آئی رہنما عرفان سلیم کی موجودگی ان کے پروفائل امیج اور ویڈیوز میں نظر آنے والے فرد کے موازنے سے ثابت ہوئی۔
- پی ٹی آئی رہنما کامران بنگش کے پروفائل فوٹو اور ویڈیو فوٹیج میں واضح مماثلت دیکھی گئی۔
- سابق صوبائی وزیر تیمور جھگرہ کے پروفائل امیج اور ویڈیو کلپس میں موجود فرد میں واضح مشابہت پائی گئی۔
دو ویڈیوز میں کلپ سپلائسنگ کے شواہد
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ آفریدی اور پی ٹی آئی رہنما عرفان سلیم سے متعلق دو ویڈیوز میں کلپ سپلائسنگ کے شواہد ملے ہیں۔
رپورٹ کی تیاری کا دورانیہ
فورینسک لیبارٹری نے بتایا کہ یہ رپورٹ 19 سے 23 دسمبر 2025 کے درمیان تیار کی گئی اور تجزیہ صرف بصری شواہد تک محدود رہا۔
عدالتی کارروائی کا پس منظر
واضح رہے کہ اینٹی ٹیررازم کورٹ نے ریڈیو پاکستان حملے کیس میں پولیس سے رپورٹ طلب کی تھی، جس کے بعد ویڈیوز کو پنجاب فورینسک سائنس لیبارٹری بھیجا گیا تھا۔ 9 مئی کو پی ٹی آئی بانی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جو تشدد پر منتج ہوئے تھے۔
