کراچی: صومالیہ کے قریب ہائی جیک ہونے والے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران ہلاک ہونے والے تین پاکستانی ملاحوں کی لاشیں اور چار زخمی عملے کے ارکان اتوار کو کراچی پہنچ گئے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ تمام افراد ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ET 694 کے ذریعے عدس ابابا سے کراچی پہنچے۔
زخمیوں اور لاشوں کی وطن واپسی
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان کے سفیروں نے جبوتی اور ایتھوپیا میں زخمی ہونے والے چار پاکستانی ملاحوں عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس اور یاسر خان کو الوداع کہا، جبکہ ہلاک ہونے والے رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کی لاشیں بھی اسی پرواز کے ذریعے وطن بھیجی گئیں۔
یہ ساتوں پاکستانی شہری اتوار کی شام کراچی پہنچے، جہاں حکام نے لاشوں اور زخمیوں کے استقبال کے لیے انتظامات مکمل کیے تھے۔
واقعے کا پس منظر
یاد رہے کہ پلاؤ کے جھنڈے والا تیل بردار جہاز ایم ٹی آنر 25 اپریل میں صومالی قزاقوں کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ اس جہاز پر عملے کے کل دس پاکستانی ارکان سوار تھے، جن میں سات انڈونیشیائی، ایک بھارتی اور ایک سری لنکن شہری بھی شامل تھے۔
انتیس ستمبر کو صومالی میری ٹائم پولیس نے ایک سیکیورٹی آپریشن کے بعد جہاز کو بازیاب کر لیا تھا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں اکیس مشتبہ قزاقوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ عملے کے دیگر ارکان کی تلاش جاری تھی۔
ہلاکتوں کی تفصیل اور امدادی پیکج
دفتر خارجہ کے مطابق آپریشن شروع ہونے سے قبل پانچ افراد ہلاک ہو چکے تھے، جن میں تین پاکستانی، ایک میانمار اور ایک بھارتی شہری شامل تھا۔
- ہلاک ہونے والے پاکستانی ملاحوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے ہوئی۔
- زخمی ہونے والوں میں عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس اور یاسر خان شامل ہیں۔
- وزیراعظم شہباز شریف نے ہلاک ہونے والے ملاحوں کے خاندانوں کے لیے بارہ اعشاریہ پانچ ملین روپے کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان متاثرہ خاندانوں کی مکمل معاونت جاری رکھے گی اور اس سانحے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
