کراچی: صومالیہ کے قزاقوں کے قبضے میں دو ماہ سے محصور دس پاکستانی شہریوں کے لواحقین نے جمعرات کو کراچی پریس کلب کے باہر شدید احتجاج کیا اور حکومت سے فوری اور مؤثر سفارتی مداخلت کا مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ہونے والے اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں مغوی شہریوں کے اہل خانہ شریک ہوئے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایم ٹی آنر 25 نامی جہاز کو 21 اپریل کو صومالیہ کے نیم خود مختار علاقے پنٹ لینڈ کے قریب ہائی جیک کیا گیا تھا، جس میں عملے کے 17 افراد سوار تھے، جن میں سے 10 کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ شہریوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اور حکام بلا تاخیر کارروائی کریں۔
جماعت اسلامی کی قیادت کا حکومت سے سنجیدگی کا مطالبہ
احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر سیف الدین ایڈووکیٹ نے حکومت سے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی سطح پر کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان بھی مغوی پاکستانیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں اور پارٹی اس مقصد کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
مظاہرے کے اختتام پر قرارداد منظور
مظاہرے کے اختتام پر ایک قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان، وزارت خارجہ اور متعلقہ ادارے فوری طور پر صومالی حکومت، بین الاقوامی تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقین سے رابطے بڑھائیں۔ قرارداد میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دینے اور متاثرہ خاندانوں کو پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
یرغمالیوں کی ویڈیو میں اپیل
یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب رواں ہفتے کے آغاز میں ایم ٹی آنر 25 پر یرغمال پاکستانی عملے کے ارکان کی ایک نئی ویڈیو منظر عام پر آئی، جس میں انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔ ویڈیو میں جہاز کے سیکنڈ آفیسر سید کاشف عمر نے بتایا کہ دس پاکستانی عملے کے ارکان 57 روز سے صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں اور ان کے پاس خوراک انتہائی کم ہے جبکہ کچھ بیمار بھی ہو چکے ہی۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز کے مالکان قزاقوں سے مذاکرات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
دفتر خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ حکومت تقریباً دو ماہ سے صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے پرعزم ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق جہاز اب بھی صومالی ساحل کے قریب لنگر انداز ہے جبکہ قزاقوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ صومالی حکومت جہاز کے مالک کے ذریعے قزاقوں سے رابطے میں ہے۔
- تاحال پیش رفت نہ ہونے پر مایوسی: مذاکرات میں ابھی تک کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
- تاوان کی رقم میں کمی: قزاقوں نے ابتدائی طور پر 10 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا، جسے بعد میں کم کر کے 4 ملین ڈالر کر دیا گیا۔
