لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے چکوال میں 9 سالہ حانیہ کے قتل کی ایف آئی اے تحقی کے لیے دائر درخواست کو ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کو بھیج دیا ہے۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) اپنے ہی اہلکار کے ملوث ہونے والے مقدمے کی غیر جانبدارانہ تفتیش نہیں کر سکتا۔
جسٹس صادقت علی خان نے درخواست کی سماعت کی، جس میں سی سی ڈی اور پولیس حکام بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ 9 سالہ بچی کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
فیملی کی چھٹیاں المیے میں بدل گئیں
آسٹریلوی پاکستانی بچی حانیہ 10 جون کو پنجاب کے شہر چکوال میں سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئی تھی۔ اہل خانہ چکوال میں چھیاں گزار رہے تھے جب سی سی ڈی الکاروں نے مبینہ طور پر ان کی گاڑی کو ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ کر اس پر فائرنگ کر دی۔ معصوم بچی کو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔p>
درخواست گزار کے وکیل میاں آصف محمود نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئ کہا ک حانیہ سی سی ڈی کی فائرنگ سے ماری گئی اور بعد میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسی واقعے میں دو ڈاکو بھ مارے گئے تھے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ ٹرپل مرڈر کا ہے اور اس کی تفتیش ایف آئی اے سے کرائی جانی چاہی۔
وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا: “ملزم کا تعلق سی سی ڈی سے ہے اور محکمہ اپنے ہی مقدمے کی غیر جانبدارانہ تفتیش نہیں کر سکتا۔”
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے رٹ پٹیشن نمٹاتے ہوئے معاملہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو بھجوا دیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ ایڈووکیٹ آصف محمود کی دائر کردہ درخواست قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات
اس سے قبل پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ بچی کو متعدد گولیاں لگی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس کے جسم پر گولیوں اور چوٹوں کے 11 نشانات پائے گئے۔ گولیوں کے باعث دل، جگر، پھیپھڑے، سینے اور پیٹ سمیت کئی اہم اعضاء کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ دلخراش واقعہ اس وقت پیش آیا جب اہل خانہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ سی سی ڈی اہکاروں نے ڈکیتی کی واردات کے شبے میں کارروائی کرتے ہوئے گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ننھی حانیہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اس واقعے نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
