واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ ان کی تجویز کردہ ’بورڈ آف پیس‘ اقوام متحدہ کا متبادل نہیں ہوگی، تاہم عالمی ماہرین اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
عالمی ردعمل اور تشویشات
دنیا بھر کی حکومتوں نے ٹرمپ کے اس دعوتی منصوبے پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے جس کا مقام صدر کے بقول عالمی تنازعات کا حل ہے۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اقوام متحدہ کے کام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایک نامہ نگار کے سوال پر کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ’بورڈ آف پیس‘ اقوام متحدہ کی جگہ لے، ٹرمپ نے جواب دیا، “شاید۔ اقوام متحدہ بہت مددگار ثابت نہیں ہوئی۔ میں اقوام متحدہ کی صلاحیت کا بڑا مداح ہوں لیکن یہ اپنی صلاحیتوں پر کبھی پورا نہیں اتری۔”
انہوں نے ایک بریفنگ میں مزید کہا، “میرا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کو جاری رکھنا ہوگا کیونکہ اس کی صلاحیت بہت عظیم ہے۔”
بورڈ کے ارکان اور تنازع
وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو بورڈ میں شامل ہونے والے بعض افراد کے نام جاری کیے ہیں، جن میں سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
نومبر کے وسط میں منظور ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک قرارداد کے تحت غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکامی فورس قائم کرنے کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ اور اس کے ساتھ کام کرنے والے ممالک کو اختیار دیا گیا تھا۔
ماہرین کی تنقید
مشاہدین کا کہنا ہے کہ ایسا بورڈ اقوام متحدہ کو کمزور کر سکتا ہے۔ متعدد حقوق کے ماہرین اور وکلاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کا کسی غیر ملکی علاقے کے معاملات کی نگرانی کے لیے بورڈ کی نگرانی کرنا نوآبادیاتی ڈھانچے سے مشابہت رکھتا ہے۔
ٹرمپ کے منصوبے کے تحت قائم ہونے والی غزہ کی جنگ بندی بھی نازک رہی ہے۔ اکتوبر میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے 460 سے زائد فلسطینیوں، جن میں 100 سے زیادہ بچے شامل ہیں، اور تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

