وزیر اعظم شہباز شریف کی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس میں مدد کی یقین دہانی

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعے کے روز ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو یقین دلایا کہ حکومت ان کی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے میں تمام ممکنہ قانونی اور سفارتی مدد فراہم کرتی رہے گی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک پاکستانی نیورو سائنسدان ہیں جو امریکہ میں قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

یہ یقین دہانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر فوزیہ سے ملاقات کے دوران دی۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے وزیر اعظم اور ان کے کابینہ کے اراکین کے خلاف توہین عدالت کے نوٹسز کی کارروائی روک دی تھی تاکہ اس کی قانونی حیثیت کی تصدیق کی جا سکے۔

وزیر اعظم نے ملاقات میں کہا کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس میں غفلت نہیں برت رہی ہے۔ انہوں نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کو اس معاملے پر خط بھی لکھا تھا اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی تاکہ کیس میں مزید پیش رفت ہو سکے۔

ڈاکٹر عافیہ کو امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ نے افغانستان میں امریکی اہلکاروں پر حملے کی کوشش کے الزام میں سزا سنائی تھی اور وہ 2010 سے امریکہ کے فیڈرل میڈیکل سینٹر کارسویل میں قید ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں وفاقی حکومت سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی، صحت اور واپسی کے معاملے میں رپورٹ طلب کی تھی اور عدم پیشی کی صورت میں پوری کابینہ کو طلب کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس سے قبل فروری میں عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ڈاکٹر عافیہ کے بدلے میں تبادلہ کرنے کی تجویز قابل عمل نہیں تھی کیونکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس طرح کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

یہ معاملہ وزیر اعظم شہباز شریف کے اکتوبر میں جو بائیڈن سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی درخواست کے تناظر میں سامنے آیا تھا۔ وزیر اعظم نے خط میں ڈاکٹر عافیہ کی بگڑتی ہوئی ذہنی حالت اور جسمانی صحت پر تشویش ظاہر کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس خط پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا، تاہم صحافیوں کی جانب سے سوال پر انہوں نے سفارتی تعلقات کے بارے میں کسی بھی معلومات کی تصدیق یا تردید سے انکار کر دیا تھا۔